آزاد کشمیر میں افغان مہاجرین کی بے دخلی کیلئے 18 نومبر کی تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے کہا کہ مقررہ تاریخ کے بعد کسی بھی ضلع یا علاقے میں کوئی افغان شہری رہائش ہوا تو متعلقہ افسر کو معطل کرتے ہوئے مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر میں افغان مہاجرین کی بے دخلی کیلئے 18 نومبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے کہا کہ ڈی آئی جیز بے دخلی کارروائی کی براہ راست نگرانی کریں گے، ایس ایس پی اور ایس پی اضلاع افغان مہاجرین کی طورخم بارڈر سے بے دخلی تک ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 18 نومبر 2025ء تاریخ تک متعلقہ پولیس افسران اس بابت تصدیق کریں گے کہ یہاں کوئی افغان رہائش پذیر نہیں۔آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے کہا کہ مقررہ تاریخ کے بعد کسی بھی ضلع یا علاقے میں کوئی افغان شہری رہائش ہوا تو متعلقہ افسر کو معطل کرتے ہوئے مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی اور ایس پیز افغان مہاجرین کی بے دخلی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر مرکزی دفتر پولیس ارسال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کی نے کہا کہ بے دخلی پولیس ا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔