سپریم کورٹ نے مقدمات کی تفصیلات گھر بیٹھے حاصل کرنے کے لیے آن لائن پورٹل کا اجرا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوام کی آسانی کے لیے نیا پبلک فسیلیٹیشن پورٹل لانچ کر دیا ہے، جو چیف جسٹس آف پاکستان کی خصوصی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ پورٹل سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر پبلک پورٹل کے نام سے دستیاب ہے، جس کا مقصد عوام کو عدالتی معلومات اور سہولیات تک فوری اور آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ بار انتخابات، عاصمہ جہانگیر گروپ کے ہارون رشید کو ملک بھر میں برتری
اس پورٹل کے ذریعے شہری اب مقدمات کی تفصیلات، نام، کیس نمبر یا درخواست کی نوعیت کے مطابق تلاش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح 1818 ہیلپ لائن کے ذریعے سپریم کورٹ سے براہِ راست رہنمائی اور تکنیکی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
پورٹل میں موجود ایپلیکیشن اسٹیٹس سیکشن کے ذریعے جلد سماعت، التوا یا ویڈیو لنک درخواستوں کی پیش رفت کو آن لائن مانیٹر کیا جا سکتا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ اور غیر ضروری تاخیر میں کمی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بنیادی حقوق پر سمپوزیم
عوامی شکایات اور تجاویز کے لیے فیڈبیک پورٹل اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے اوورسیز لٹیگنٹس پورٹل بھی شامل کیے گئے ہیں، جبکہ بدعنوانی کی اطلاع دینے کے لیے علیحدہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق یہ اقدام انصاف کی فراہمی کو عوام کے قریب لانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے، جس سے شہری کسی بھی جگہ سے عدالتی نظام تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
public portal supreme court pakistan پبلک پورٹل سپریم کورٹ مقدمات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پبلک پورٹل سپریم کورٹ مقدمات سپریم کورٹ کے لیے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔