نادرا کی نئی بھرتیاں، انٹرمیڈیٹ پاس افراد کے لیے سنہری موقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ویب ڈیسک:نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) نے نوکریوں کا اعلان کردیا.
تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) نے کراچی اور اندرون سندھ کے مختلف اضلاع میں 200 جونیئر ایگزیکٹیوز (ڈیٹا انٹری آپریٹرز) کی بھرتی کا اعلان کیا ہے، یہ اقدام نادرا کی خدمات کو بہتر بنانے اور شہریوں کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے۔
واک ان انٹرویوز 3 نومبر 2025 سے شروع ہوں گے، بھرتی کا دائرہ کراچی کے پانچ اضلاع اور اندرون سندھ کے نو اضلاع پر محیط ہوگا، جن میں میرپورخاص، میرپور ساکرو، کوٹری، ماتھیری، چچرو، جھودو، میرپور تھارو، ٹنڈو اللہیار، جامشورو، ٹھٹہ اور سجاول شامل ہیں۔
قتل میں ملوث اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار
اہلیت کے معیار کے مطابق امیدوار کم از کم انٹرمیڈیٹ تعلیمی قابلیت کے حامل ہوں، اور زیادہ سے زیادہ عمر 25 سال ہونی چاہیے۔
متعدد اضلاع میں نئے علاقائی دفاتر قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے زمین خریدنے کا عمل جاری ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نیشنل بایومیٹرک اینڈ رجسٹریشن پالیسی فریم ورک کا حصہ ہے، جو یکم جنوری 2025 کو وزیر اعظم شہباز شریف نے منظور کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔