Jasarat News:
2026-07-24@03:21:13 GMT

گروسیف کے GIZ کی منعقدہ ورکشاپ میں تربیتی سیشنز

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) گروسیف نے پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کے حوالے سے حال ہی میں کراچی میں ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے لیے کراچی میں دو روزہ جامع ورکشاپ میں تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا۔ایونٹ کا اہتمام GIZ Pakistan کے منصوبے ‘سسٹین ٹیکس’ صنعت کی مضبوطی براستہ علم و اشتراک، کے عنوان سے میریٹ ہوٹل میں کیا گیا۔ مذکورہ منصوبے کے لیے وزارت صنعت و تجارت کے نیشنل کمپلائنس سینٹر سے اشتراک کیا گیا۔ایونٹ میں ملکی ٹیکسٹائل کے صف اول کے 30 سیزائد اداروں کے کلیدی شعبوں جیسا کہ صحت، حفاظت و ماحولیات، پروڈکشن، کمپلائنس، ہیومن ریسورسز، اور انجینئرنگ سے ماہرین کو شامل کیا گیا۔گروسیف نے GIZ پاکستان کی جانب سے آفیشل لوکل سروس پرووائڈر (LSP) ہونے کی حیثیت سے پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کے شعبے میں موجود چینلجز پر مرکوز سیشنز کی سربراہی کی۔ ادارہ GIZ کے جرمن طریقہ کار ڈائیلاگ فار سسٹینیبیلیٹی (DfS) اسٹینڈرڈ کا بھی سفیر ہے، جس کا مقصد پیشہ ورانہ کام اور سسٹین ایبل رجحانات کا فروغ ہے۔سیشنز میں پیشہ ورانہ حفاظت کے حوالے سے قانونی و سماجی توقعات، کیمیکل اور فائر سیفٹی، فائر لوڈ کے اندازے، دیکھ بھال کے عمل کے دوران حفاظت، کام کرنے کے محفوظ طریقوں، حادثوں کی تحقیق، اصل وجوہات کے تجزیے، برقی حفاظت کے پیمانوں، صحت کے لیے نقصان دہ چیزوں کے کنٹرول، اندرونی ایئر کوالٹی، ٹیکسٹائل میں صحت کے لیے ممکنہ خطرات اور پیشہ ورانہ جگہوں پر پیش آنے والے حادثات کی براہ راست اور غیر براہ راست معاشی لاگت کا احاطہ کیا گیا ۔ان میں حفاظت کے آلات اور مختلف نظام، جیسا کہ توانائی کی بچت سے متعلق آلات، الیکٹریکل سیفٹی سرویز، آگ لگنے کی موزوں جگہ کی جانچ، صنعتی صفائی و ستھرائی کے معمولات، پرمٹ ٹو ورکَ سسٹمز، اور لاک آؤٹ، ٹیگ آؤٹ پروسیجرز کے استعمال کے حوالے سے عملی مظاہرے بھی شامل تھے ۔ اس موقعے پر شرکا نے سیشنز کو %94 یعنی انتہائی مفید قرار دیا، جس سے گروسیف کی پیشہ ورانہ مہارت اور تیار کردہ تربیت کے مواد کے بے حد موافق ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ ورکشاپ GIZ کی وساطت سے جرمن وفاقی وزارت برائے معاشی اشتراک و ترقی کے وسیع تر مشن اور یورپی یونین کے ‘ٹیم یورپ’ کے ضابطہ کار کے تحت اقوامِ متحدہ کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز (SDGs) کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ گروسیف کی طرف سے مستند تربیت فراہم کرنے والوں میں ادارے کے سی ای او سعد عبدالوہاب، جنرل منیجر ٹیکنیکل اینڈ انسپیکشنز عثمان داؤد باری، ہیڈ آف انٹرنیشنل ٹریننگ اینڈ کنسلٹنسی سید شایان احمد ہاشمی، منیجر کوآرڈینیشن اینڈ سسٹینیبیلیٹی مزمل صفدر، اور منیجر انرجی اینڈ انوائرمنٹ مشتاق احمد شامل تھے۔

کامرس رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیشہ ورانہ حفاظت کے کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا