سندھ: کچے کے علاقوں کے ڈاکوؤں کیلئے سرینڈر پالیسی جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سندھ حکومت نے کچے کے علاقوں کے ڈاکوؤں کے لیے سرینڈر پالیسی جاری کر دی۔
اس حوالے سے محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ پالیسی کا اطلاق سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں ہو گا، سرینڈر کرنے والوں کو قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
محکمہ داخلہ سندھ نے کہا کہ سرینڈر پالیسی عام معافی کا اعلان نہیں، ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری دینے والے ڈاکوؤں کو مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا۔
محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا جائے گا، سرینڈر کرنے والوں کے اہلخانہ کو قطعی طور پر ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
سندھ کے کچے کے ڈاکوئوں کے ہاتھ کراچی تک پہنچ گئے ہیں، گزشتہ روز کچے کے گینگ کے4 ڈاکوئوں نے ڈیفنس سے 78 سالہ شہری کو اغوا کیا۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے کچے میں بچوں اور خواتین کے لیے تعلیمی، صحت اور فلاحی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محکمہ داخلہ کا کہنا تھا کہ کچے میں بند اسکول اور ڈسپنسریاں مرحلہ وار بحال کی جائیں گی، حکومت سندھ اسلحہ ڈالنے والے ڈاکوؤں کو فنی تربیت اور روزگار دے گی۔
محکمہ داخلہ سندھ نے کہا کہ محکمہ داخلہ سندھ میں ریڈریسل سیل بھی قائم کردیا گیا، سوشل اور اکنامک ڈیولپمنٹ کے منصوبے کچے کے علاقوں میں شروع کیے جائیں گے، ہر ماہ پالیسی کا جائزہ لے کر زمینی حقائق کے مطابق ترامیم ہوں گی۔
محکمہ داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کے ساتھ ساتھ ضلعی اور ڈویژنل کمیٹیاں بھی نگرانی کریں گی، سرینڈر پالیسی قطعی طور پر سزا سے استثنیٰ نہیں، بذریعہ میڈیا واضح کیا جائے گا کہ یہ پالیسی امن کے لیے ہے، معافی کے لیے نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ سندھ سرینڈر پالیسی کچے کے علاقوں کے لیے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔