نوابشاہ میں آئی ایس او کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جو منافقین فلسطین اور غزہ کے شہداء کیساتھ خیانت کرکے امریکہ و اسرائیل کے حواری بنے، وہ غدار ہیں، اور انکے احتساب کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور صوبہ سندھ کے آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ محاذ مقاومت کے شہداء کے پاکیزہ لہو نے مسئلۂ فلسطین کو دنیا کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اقوام عالم، محور مقاومت کی مظلومیت و صداقت اور اسرائیل و امریکا کے مکر و فریب، ظلم و بربریت کو بخوبی پہچان چکی ہیں۔ لبنان، یمن، ایران، غزہ اور فلسطین کے عظیم شہداء نے اپنے خون سے حق و صداقت کی گواہی دی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے مکروہ چہروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے نوابشاہ میں آئی ایس او پاکستان کے ریجنل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اسرائیل یہ جنگ ہار چکا ہے، جبکہ غزہ و فلسطین کے مجاہدین یہ جنگ جیت چکے ہیں۔ بالآخر اسرائیل کو فلسطین پر اپنے غاصبانہ قبضے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو منافقین فلسطین اور غزہ کے شہداء کے ساتھ خیانت کرکے امریکہ و اسرائیل کے حواری بنے، وہ غدار ہیں، اور ان کے احتساب کا وقت قریب آ چکا ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے واضح کیا کہ اسلام کے لبادے میں چھپے وہ منافقین جو یہود و نصاریٰ کو اپنا ولی اور سرپرست سمجھتے ہیں، انہوں نے قرآن کریم کی صریح و واضح تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ قرآنی بصیرت، اتحاد، اور مقاومت کے عزم کے ساتھ قبلۂ اول بیت المقدس کی آزادی کے لیے متحد ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ مقصود نے کہا کہ ڈومکی نے انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم