اسرائیل جنگ ہار چکا، غزہ و فلسطین کے مجاہدین جیت چکے ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
نوابشاہ میں آئی ایس او کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جو منافقین فلسطین اور غزہ کے شہداء کیساتھ خیانت کرکے امریکہ و اسرائیل کے حواری بنے، وہ غدار ہیں، اور انکے احتساب کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور صوبہ سندھ کے آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ محاذ مقاومت کے شہداء کے پاکیزہ لہو نے مسئلۂ فلسطین کو دنیا کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اقوام عالم، محور مقاومت کی مظلومیت و صداقت اور اسرائیل و امریکا کے مکر و فریب، ظلم و بربریت کو بخوبی پہچان چکی ہیں۔ لبنان، یمن، ایران، غزہ اور فلسطین کے عظیم شہداء نے اپنے خون سے حق و صداقت کی گواہی دی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے مکروہ چہروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے نوابشاہ میں آئی ایس او پاکستان کے ریجنل کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اسرائیل یہ جنگ ہار چکا ہے، جبکہ غزہ و فلسطین کے مجاہدین یہ جنگ جیت چکے ہیں۔ بالآخر اسرائیل کو فلسطین پر اپنے غاصبانہ قبضے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو منافقین فلسطین اور غزہ کے شہداء کے ساتھ خیانت کرکے امریکہ و اسرائیل کے حواری بنے، وہ غدار ہیں، اور ان کے احتساب کا وقت قریب آ چکا ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے واضح کیا کہ اسلام کے لبادے میں چھپے وہ منافقین جو یہود و نصاریٰ کو اپنا ولی اور سرپرست سمجھتے ہیں، انہوں نے قرآن کریم کی صریح و واضح تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ قرآنی بصیرت، اتحاد، اور مقاومت کے عزم کے ساتھ قبلۂ اول بیت المقدس کی آزادی کے لیے متحد ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود نے کہا کہ ڈومکی نے انہوں نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔