افغان وزیر دفاع نے پاک افغان کشیدگی میں بھارتی کردار کی باتوں کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی میں بھارت کے کسی کردار کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دو پڑوسی ممالک ہیں جن کے تعلقات باہمی احترام اور اچھے ہمسائے کے اصولوں پر استوار ہونے چاہییں، کیونکہ کشیدگی نہ صرف دونوں کے مفاد میں نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔
ملا یعقوب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو کیے گئے معاہدوں کی ہر شق پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق افغانستان اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل طور پر کاربند ہے، تاہم اگر پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو اس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ثالثی کرنے والے ممالک ترکیہ اور قطر سے بھی درخواست کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ غلط فہمیاں ختم ہوں اور تعلقات استحکام کی جانب بڑھیں۔
افغان وزیرِ دفاع نے بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کابل کی پالیسی میں کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے جو اپنے قومی مفاد کے تحت بھارت کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھے گا اور انہیں مزید بہتر بنائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات کو خوشگوار ہمسائیگی کی بنیاد پر مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔