data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

افغان وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی میں بھارت کے کسی کردار کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دو پڑوسی ممالک ہیں جن کے تعلقات باہمی احترام اور اچھے ہمسائے کے اصولوں پر استوار ہونے چاہییں، کیونکہ کشیدگی نہ صرف دونوں کے مفاد میں نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

ملا یعقوب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو کیے گئے معاہدوں کی ہر شق پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق افغانستان اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل طور پر کاربند ہے، تاہم اگر پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو اس سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ثالثی کرنے والے ممالک ترکیہ اور قطر سے بھی درخواست کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ غلط فہمیاں ختم ہوں اور تعلقات استحکام کی جانب بڑھیں۔

افغان وزیرِ دفاع نے بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ کابل کی پالیسی میں کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے جو اپنے قومی مفاد کے تحت بھارت کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھے گا اور انہیں مزید بہتر بنائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات کو خوشگوار ہمسائیگی کی بنیاد پر مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار