ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک افغانستان ہے: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک افغانستان ہے، افغانستان کے باعث یہاں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوتی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگلے مہینے افغانستان کے ساتھ ایک ایکسپو منعقد ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ گندم اور آٹے کی ترسیل جب بند ہوجاتی ہے تو 5 لاکھ روپے دے کر ٹرک کو اجازت دی جاتی ہے، گندم اور آٹے کی ترسیل پھر کیوں بند کرتے ہو جب 5 لاکھ روپے پر ٹرک چھوڑتے ہو۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو بااختیار ہونا چاہیے کہ کچھ فیصلے وہ خود بھی کرسکیں، ان کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے پنجاب حکومت سے بھی بات کرنی چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ میں نے رپورٹ مانگی ہے کہ پولیس کی دی گئی گاڑیوں میں کیا مسئلہ تھا، آئی جی پی آفس اور وزارت داخلہ سے بھی رپورٹ مانگی ہے، اگر گاڑیاں ٹھیک تھیں تو ان کو رکھنا چاہیے، مزید کے لیے کوشش کرتے، وزیراعلیٰ سے پہلی ملاقات میں مثبت رسپانس ملا تھا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر اس کا رسپانس مثبت ہوگا تو میں بھی مثبت رسپانس دوں گا، کئی دفعہ ہمارے لوگوں نے افغانستان کے دورے کیے، ان کو بتایا کہ دہشت گردی کے لیے آپ کی زمین استعمال کی جا رہی ہے، افغانستان نے کوئی رسپانس نہیں دیا۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امن ہو لیکن کسی کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے، کوشش کر رہے ہیں کہ کاروبار کے لیے بارڈر کھل جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اگر وفاق پولیس کو گاڑیاں دے رہا ہے تو لینی چاہئیں، باقی چیزوں کے لیے بھی ہمیں کوشش کرنی چاہیے، مجھے نہیں پتا وزیراعلیٰ نے کیوں گاڑیاں واپس کیں، وزیراعلیٰ کو مختصر کابینہ بنانا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ہو پھر کابینہ میں تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دوست آئے تھے، میں نے ان کو مل کر کام کرنے کے لیے مثبت رسپانس دیا، ہم چاہتے ہیں کہ یہ صوبہ بھی ترقی کرے۔
فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا کہ پوری کوشش ہے کہ صوبے کی ترقی کے لیے کام کریں، یہ صوبہ قدرتی معدنیات سے مالامال ہے، پاکستان میں سب سے سستی بجلی خیبر پختونخوا پیدا کر رہا ہے لیکن بجلی کی سب سے زیادہ لوڈشیڈنگ بھی اس صوبے میں ہو رہی ہے، وسائل کے باوجود یہ صوبہ پیچھے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ا نہوں نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔