انرجی مینجمنٹ: کام یابی کی نئی طاقت
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
کام یابی کے حصول کے لیے میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ میں نت نئے موضوعات، زاویوں اور نقطۂ نظر کو تلاش کروں۔ اسی جستجو کے دوران کئی ایسے موضوعات اور علم کے موتی ملتے ہیں جو رُوح کو تازگی بخشتے ہیں، سوچ کو نئے افکار دیتے ہیں اور دِل کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
اسی تلاش اور جستجو کے سفر کے نتیجے میں، میں اپنے قارئین کے لیے منفرد، مختلف اور بامعنی موضوعات کا انتخاب کر کے لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آج کا موضوع بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے میری زندگی کے سفر کو ایک نئی سمت دی ہے۔ میں نے مختلف لوگوں کے انٹرویوز کرنے، ان کی کہانیاں پڑھنے اور کام یاب شخصیات کے عادات و کردار کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کام یاب اور ناکام لوگوں کے درمیان صرف ایک بنیادی فرق ہوتا ہے۔
کام یاب لوگوں کے پاس بھی وہی 24 گھنٹے اور سات دن ہوتے ہیں، اتنی ہی توانائی اور تقریباً ویسی ہی صلاحیتیں ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ کام یابی کی اُس معراج تک پہنچ جاتے ہیں جو عام انسان کی پہنچ سے باہر رہتی ہے۔ میری اپنی زندگی کا نچوڑ یہ ہے کہ دُنیا میں ’’کامیاب‘‘ اور ’’ناکام‘‘ نام کے کوئی انسان نہیں ہوتے، بلکہ ہر انسان کے اندر ایک مخصوص قسم کی انرجی اور فریکوئنسی پائی جاتی ہے۔
مثبت انرجی کے حامل افراد اگر اپنی توانائی کو بہتر انداز میں منظم (Manage) کرکے درست سمت میں استعمال کریں تو وہ کام یابی حاصل کرلیتے ہیں، جب کہ منفی انرجی کے زیرِاثر آنے والے لوگ ناکامی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آج کے اس مضمون میں ہم انرجی مینجمنٹ پر گفتگو کریں گے کہ کس طرح آپ اپنی مثبت توانائی کو درست سمت میں، بہتر انداز میں استعمال کرکے ایک کام یاب، پُرسکون اور خوش گوار ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔
دُنیا بھر میں ٹائم مینجمنٹ کے حوالے سے بے شمار تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور نظریات موجود ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دُور میں اگر آپ کام یابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کا سب سے قیمتی اور نایاب سرمایہ آپ کی مثبت انرجی ہے۔ مثبت انرجی کی پہچان اور اس کا درست استعمال، اس مثبت انرجی کو پہچاننا، اسے پروان چڑھانا، منفی انرجی سے محفوظ رکھنا اور درست سمت میں استعمال کرنا ہی اصل کام یابی ہے۔ اس مضمون میں ہم سات اہم نکات پر بات کریں گے جو ہمیں اپنی انرجی کو بہتر طور پر منظم کرنے میں راہ نمائی فراہم کریں گے۔
اپنی مثبت انرجی کی تلاش اور پہچان
قدرت نے ہر انسان کو ایک خاص تحفہ، صلاحیت اور انرجی کی نعمت سے نوازا ہے۔ بے شک ہر انسان جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ ہمارے خدوخال، ساخت، سوچ اور اندازِ نظر الگ ہیں، مگر ہمارے اندر پائی جانے والی انرجی تقریباً ایک جیسی نوعیت کی ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ابتدا ہی سے گھر، والدین، اساتذہ اور معاشرے کا ایسا ماحول میسر آتا ہے جو اُن کی اندرونی توانائی کو پہچاننے، نکھارنے اور پروان چڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ ورنہ عام طور پر معاشرہ ایسے افراد کو کم ہی حوصلہ دیتا ہے۔
اکثر اوقات لوگ آپ کی خوداعتمادی اور اندرونی طاقت کو دبانے یا کم زور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے شمار لوگ اپنی زندگی کا سب سے اہم سفر، اپنے اندر کا سفر، کبھی شروع ہی نہیں کرپاتے۔ اسی وجہ سے وہ اپنی ذات میں پوشیدہ خزانے، صلاحیتیں اور انرجی کے حقیقی منبع کو پہچان نہیں پاتے۔ اگر آپ آج کے دُور میں خود کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، اپنی زندگی میں ترقی، طاقت اور مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے اور اپنی ذات کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ مثبت توانائی انسان کی اصل کمائی ہے، اس لیے صرف محنت سے نہیں، مثبت توانائی سے آگے بڑھیں۔
اپنی مثبت توانائی کو منظم کرنے کا فن
جب کوئی انسان اپنی اُورا (Aura) کے اعلیٰ زون میں داخل ہوجاتا ہے، تو وہ کام یابی کے کمال کو چھولیتا ہے۔ سوال یہ ہے، اپنی مثبت توانائی کو کیسے منظم کیا جائے؟ اپنی توانائی کو منظم کرنے کا آغاز خود شناسی سے کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کون سے لوگ، سرگرمیاں یا ماحول آپ کو توانائی بخشتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی پہچانیں کہ کون سی چیزیں آپ کی انرجی کو ختم کرتی ہیں، جیسے منفی سوچ، حد سے زیادہ فکرمندی یا دوسروں کی منفی گفتگو۔ یاد رکھیں، خود آگاہی دانش مندانہ انرجی مینجمنٹ کا پہلا زینہ ہے۔
اپنی توانائی کے تمام پہلوؤں میں توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ جسمانی توانائی کے لیے نیند پوری کریں، صحت مند غذا کھائیں اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔ جذباتی توانائی کے لیے مثبت، پُرعزم اور حوصلہ افزا لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ ذہنی توانائی کے لیے دماغ کو غیرضروری دباؤ سے آزاد رکھیں، نئی چیزیں سیکھیں، کتابیں پڑھیں اور لکھنے کی عادت اپنائیں۔ روحانی توانائی کے لیے نماز، دُعا، عبادت، مراقبے اور خاموشی میں وقت گزارنا نہ بھولیں۔
انسان ایک مکمل وجود رکھتا ہے، یعنی جسم، ذہن، دِل اور رُوح کا امتزاج۔ اگر کسی ایک پہلو کو نظرانداز کیا جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی توانائی کو اپنی زندگی کے مقصد سے جوڑیں۔ اپنی مثبت انرجی کو بامعنی سمت میں استعمال کریں، دوسروں کی مدد کریں، تخلیقی کاموں میں حصہ لیں، اور علم و تعلیم کے سفر پر گام زن رہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو آپ کی اُورا کو روشن اور زندگی کو مقصد عطا کرتا ہے۔
مثبت پروان چڑھانا
اپنے آپ کو ایسے ماحول سے دُور رکھیں جہاں چغل خوری، شکایت، بے جا تنقید یا دوسروں سے غیرضروری موازنہ عام ہو، کیوںکہ یہ آپ کی توانائی کو چُوس لیتے ہیں۔ سیکھیں کہ نہیں کہنا بھی ایک ہنر ہے۔ ہر بات، ہر رشتہ، ہر موقع آپ کی توجہ کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ روزانہ شکرگزاری کی مشق کریں۔ شکر ادا کرنا دِل کو سکون دیتا ہے اور ذہن کو مثبت رکھتا ہے۔ یاد رکھیں، آپ کی توانائی آپ کا سرمایہ ہے۔ اسے وقتاً فوقتاً، ری چارج کریں، کبھی قدرت میں وقت گزار کر، کبھی موسیقی یا خاموشی میں خود سے بات کریں۔
چھوٹی کام یابیوں کو نظرانداز نہ کریں۔ انہیں منائیں، کیوںکہ یہی لمحے آپ میں خوشی اور نئی توانائی جگاتے ہیں۔ مثبت رہنا تھکن سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے خود کو بھی آرام دیں۔ اور جب آپ کے اندر روشنی ہو تو وہ دوسروں کے ساتھ ضرور بانٹیں۔ کسی کی حوصلہ افزائی کریں، کسی کے دِل میں اُمید جگائیں، کسی کو اپنے لفظوں سے مسکراہٹ دیں، مگر یہ یاد رکھیں؛ اتنا بانٹیں کہ یہ روشنی آپ کے اندر باقی رہے، کیوںکہ مثبت توانائی بانٹنے سے بڑھتی ہے، ضائع کرنے سے کم ہوتی ہے۔
ہم مثبت سمت بنانا
آج کے دور میں ہر انسان بہت محنت کر رہا ہے، اور محنت یقیناً کام یابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ لیکن دیرپا اور پائے دار ترقی کے لیے زندگی میں رفتار سے زیادہ اہم سمت ہوتی ہے۔
اگر آپ اپنی توانائی مثبت سمت میں صرف کر رہے ہیں تو اس سے آپ کی توانائی کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہے، اور وقت کے ساتھ آپ کو تھکاوٹ اور بے زاری کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زندگی میں ہمیشہ وہ کام کریں جو آپ کے دِل اور رُوح کے قریب ہوں۔ ایسے کام نہ صرف آپ کی دِل کی تشنگی مٹاتے ہیں بلکہ آپ کی شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ انسانی زندگی اور شخصیت کی تعمیروتشکیل کے لیے مثبت سمت میں مثبت توانائی کا استعمال نہایت ضروری ہے۔
منفی لوگوں سے محفوظ رہنا
کچھ لوگenergy boosters ہوتے ہیں اور اکثر energy wasters ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حسد بہت بڑھ چکا ہے، اور لوگ ایک دوسرے کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو سراہنے کے بجائے بے جا تنقید کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی کی تعریف کرنا لوگ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر جب آپ دوسروں سے بہتر، اچھا اور منفرد کام کر رہے ہوں تو لوگ اس چیز کو مثبت انداز میں سراہنے کے بجائے آپ کے راستے میں روڑے اٹکاتے اور رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ چناں چہ اپنی مثبت توانائی کو محفوظ رکھنے کے لیے منفی لوگوں سے بچنا انتہائی ضروری ہے، کیوںکہ یہ اپنے کام کے ماہر ہوتے ہیں اور ہمیشہ ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں یہ اپنی منفی روح منتقل کرکے اپنی جھوٹی انا کی تسکین کرسکیں۔
ایسے لوگ اندر سے کھوکھلے، حقیقی شخصیت اور انسانیت سے عاری ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے انسانوں کے جذبات اور احساسات کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر آپ اپنے آپ کو اردگرد کے ماحول اور منفی لوگوں کی باتوں اور چالوں سے بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسے لوگوں کی پہچان کرنا، ان سے دور رہنا اور الگ رہنا سیکھنا ہوگا۔ ورنہ یہ اپنی ایک کڑوی کسیلی باتوں سے آپ کا پورا دن ضائع کرسکتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ سیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ایسے لوگوں سے کب، کتنی اور کس طرح بات کرنی ہے۔
اپنے اردگرد مثبت پہاڑ لگانا
توانائی کو چوسنے اور ختم کرنے والے جگہوں لوگوں اور کاموں سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔ ہم سب انسان ہیں، کم زور اور محدود بھی ہیں۔ اس لیے اپنے اردگرد مثبت انرجی کا پہاڑ ضرور بنائیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ اپنے اندر مثبت انرجی کے کنویں کھودیں۔ اگر آپ یہ کنویں نہیں کھودیں گے تو مثبت توانائی کے لیے دوسروں کے کنویں پر جانا پڑے گا۔ اور جیسے ہی آپ دوسروں پر انحصار کریں گے، آپ کی خوشی اور مثبت سوچ بھی دوسروں کی مرضی کے مطابق ہوجائے گی۔ ایک جملہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ تنہا رہ کر بھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتے، تو آپ واقعی آزاد ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں ضروری ہے کہ آپ ایسی منفی خبروں، پوسٹوں اور تبصروں سے اجتناب کریں جو بلاوجہ منفی سوچ اور توانائی کو انسان کے اندر منتقل کرتے ہیں۔
اپنے اردگرد ایسے لوگوں، ہم خیال گروپس، عادات اور مشغلوں کی فصیل بنائیں جن سے آپ کو اعتماد، خودانحصاری اور مثبت توانائی ملے۔ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ایسے رشتوں، لوگوں اور جگہوں پر جانا چھوڑ دیں جہاں آپ کو اپنا آپ کم تر یا کم زور محسوس ہو۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی خامیوں کو نظرانداز کردیں۔ مثبت اور منفی لوگوں میں ایک پہچان یہ بھی ہے کہ منفی لوگ ہمیشہ آپ کی ان باتوں، کاموں اور چیزوں کی جانب توجہ دلائیں گے جو آپ کے پاس نہیں ہوتیں، جب کہ مثبت لوگ آپ کی موجود صلاحیتوں اور خوبیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ مثبت لوگوں کی یہ خاص بات ہے کہ ان کی موجودگی اور محفل میں آپ خود کو ہلکا، بہتر اور مطمئن محسوس کرتے ہیں، اور وہ آپ کو مزید بہتر بننے کے لیے متحرک کرتے ہیں۔
اہم فیصلہ: خوداحتسابی
میرا دوست ولسن گل اکثر مجھے یہ یاددہانی کرواتا ہے کہ ’’اپنا وقت اور توانائی اُن لوگوں کو بدلنے کی کوشش میں ضائع نہ کریں جو خود بدلنے کی خواہش ہی نہیں رکھتے ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ اندر سے آتی ہے، اور اگر دِل میں ارادہ نہ ہو تو باہر کی کوئی طاقت اثر نہیں ڈال سکتی ہے۔
اپنی قوت اُن راستوں پر لگائیں جہاں وہ ضائع نہ ہو بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔‘‘ میں سمجھتا ہوں سب سے اہم اور بنیادی سبق اپنی انرجی کا آڈٹ کرنا یعنی خود احتسابی کرنا بہت ضروری ہے۔ جس سے آپ کو اپنے وقت اور توانائی کے صرف کا اندازہ ہوگا۔ اور آپ اپنی ترجیحات اور اہداف کا ازسر نو جائزہ لے سکیں گے۔
آپ کو اپنی حدود اور اہم ترجیحات کو جاننے کا موقع ملے گا۔ آپ اپنے فوکس زون کو بہتر بنا کر اپنے کام کے معیار اور مقدار کو بہتر کرسکیں گے۔ غیرضروری بوجھ، تھکاوٹ اور مایوسی سے بچ سکیں گے۔ اپنی توانائی کا بہتر استعمال کرکے آپ بہتر فیصلے کر سکیں گے۔ اور سب سے بڑھ کر آپ اپنی انرجی کا اپنی سب سے اہم حصہ اپنے اہم معاملات اور اہداف کو مکمل کرنے پر لگائیں گے، جس سے آپ کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہتری آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپنی مثبت توانائی کو توانائی کے لیے اپنی توانائی میں استعمال اپنی زندگی ایسے لوگوں منفی لوگوں زندگی میں توانائی ا چاہتے ہیں سب سے اہم ایسے لوگ انرجی کو منفی لوگ لوگوں کی کرتے ہیں ہوتے ہیں انرجی کے ضروری ہے کو پہچان لوگوں کے کام یابی ا پ اپنی کریں گے کو بہتر ہوتا ہے کے اندر کام یاب کی کوشش ہے کہ ا اگر ا پ وہ کام اپنے ا اس لیے اپنی ا خود کو سے لوگ
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں