اسلام آباد:

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ والا، پاکستان ان دونوں جیسی منفی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر سنجیدہ ہیں، کے پی کو دی گئی گاڑیوں کو انہوں نے ناقص قرار دیا اور وصول کرنے سے انکار کیا، یہی گاڑیاں وزرا استعمال کرتے تھے، افسوس کی بات ہے گاڑیوں کو سیاست کی نذر کردیا، ایک بلٹ پروف گاڑی کی قیمت 10 کروڑ روپے ہے، اگر آپ کو یہ ماڈل پسند نہیں تھا تو وزیراعلیٰ اپنی گاڑی دے دیتے، یہ گاڑیاں 600 ارب سے سے خریدی گئیں جبکہ کے پی حکومت کو یہ گاڑیاں اپنے فنڈز سے خریدنی چاہییں تھی۔

افغانستان سے بات کرنے کی کے پی حکومت کی پیشکش پر انہوں نے کہا کہ ہمیں کس سے کب بات کرنی ہے یہ تمہارا نہیں حکومت کا کام ہے، کے پی کی قیادت کے پی کو نقصان دے رہی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کسی بھی جگہ ایسا قدم اٹھایا جائے جو غیرسیاسی معاملہ ہو، ہم چاہتے ہیں جس کے پاس کے پی میں مینڈیٹ ہے وہ اسے محفوظ کرے، ہمارے اسلام آباد کے اسپتالوں میں مریضوں کی اکثریت کے پی والوں کی ہے کیوں کہ کے پی میں کوئی اچھا اسپتال نہیں، جن کا مینڈیٹ ہے ہے وہ کے پی میں کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ اپنی پولیس کے سامنے کیسے کھڑا ہوگا؟ جو پولیس کو مل رہا تھا اس نے پولیس کو اس سے بھی محروم کردیا، خود بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھا ہے اور پولیس بغیر بلٹ پروف گاڑی کے ہے۔

تحریک لبیک کا معاملہ

ٹی ایل پی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ کے لیے نہیں تھا، 69 مہنگی برانڈز واچز ان کی تجوری سے نکلی ہیں جو توشہ خانہ میں بھی نہیں ہیں، ہر اس برانڈ کی گھڑی نکلی ہے جسے یہ کہتے تھے کہ یہ یہود و نصاری کی ہیں، یہ ان برانڈز کی گھڑیاں تھی جن پر یہ کہتے تھے کہ ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ 100 ایسے اکاؤنٹ کی نشاندہی ہوئی ہے جس پر سود کے ذریعے وہ کروڑوں روپے وصول کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ منافع حرام ہے سودی سسٹم ختم کیا جائے، بینک کے منافع کو سود کہنے والے ٹی ایل پی والوں کے ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہیں اور کروڑوں روپے سود آیا ہوا ہے۔

وزیر مملکت داخلہ نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج تک لاپتا ہے انہوں ںے کفن باندھا ہوا تھا، نہ کفن مل رہا ہے اور نہ کفن باندھنے والا مل رہا ہے، خیبر پختون خوا جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ والا، پاکستان ان دونوں جیسی منفی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ایک طرف افغانستان ہم پر بمباری کررہا تھا اور دوسری جانب ٹی ایل پی والے مرید کے میں پولیس والوں پر گولیاں پر برسارہے تھے، ایسی سیاست کرنے والوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں، ٹی ایل پی پر پنجاب حکومت نے جو ریفرنس وفاق کو بھیجا ہے وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اس میں ٹی ایل پی کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، اب وفاقی حکومت اس پر کام کررہی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ہم مولانا صاحب کو ناراض نہیں کرسکتے وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کی جب بھی تجویز آتی ہے ہم انہیں اور ان کی تجویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت ٹی ایل پی پی جیسی

پڑھیں:

اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔

مشیل باشیلے (چلی)

74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔

باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت  ہونی چاہیے۔

انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔

ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)

61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔

رافیل گروسی (ارجنٹائن)

65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔

گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔

وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)

70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔

2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ  کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔

گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)

52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ  دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

میکی سال (سینیگال)

64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔

ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انتخاب کا طریقۂ کار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان