ہمارا ملک کے پی جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ کا متحمل نہیں ہوسکتا، وزیر مملکت داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ والا، پاکستان ان دونوں جیسی منفی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر سنجیدہ ہیں، کے پی کو دی گئی گاڑیوں کو انہوں نے ناقص قرار دیا اور وصول کرنے سے انکار کیا، یہی گاڑیاں وزرا استعمال کرتے تھے، افسوس کی بات ہے گاڑیوں کو سیاست کی نذر کردیا، ایک بلٹ پروف گاڑی کی قیمت 10 کروڑ روپے ہے، اگر آپ کو یہ ماڈل پسند نہیں تھا تو وزیراعلیٰ اپنی گاڑی دے دیتے، یہ گاڑیاں 600 ارب سے سے خریدی گئیں جبکہ کے پی حکومت کو یہ گاڑیاں اپنے فنڈز سے خریدنی چاہییں تھی۔
افغانستان سے بات کرنے کی کے پی حکومت کی پیشکش پر انہوں نے کہا کہ ہمیں کس سے کب بات کرنی ہے یہ تمہارا نہیں حکومت کا کام ہے، کے پی کی قیادت کے پی کو نقصان دے رہی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کسی بھی جگہ ایسا قدم اٹھایا جائے جو غیرسیاسی معاملہ ہو، ہم چاہتے ہیں جس کے پاس کے پی میں مینڈیٹ ہے وہ اسے محفوظ کرے، ہمارے اسلام آباد کے اسپتالوں میں مریضوں کی اکثریت کے پی والوں کی ہے کیوں کہ کے پی میں کوئی اچھا اسپتال نہیں، جن کا مینڈیٹ ہے ہے وہ کے پی میں کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ اپنی پولیس کے سامنے کیسے کھڑا ہوگا؟ جو پولیس کو مل رہا تھا اس نے پولیس کو اس سے بھی محروم کردیا، خود بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھا ہے اور پولیس بغیر بلٹ پروف گاڑی کے ہے۔
تحریک لبیک کا معاملہ
ٹی ایل پی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ کے لیے نہیں تھا، 69 مہنگی برانڈز واچز ان کی تجوری سے نکلی ہیں جو توشہ خانہ میں بھی نہیں ہیں، ہر اس برانڈ کی گھڑی نکلی ہے جسے یہ کہتے تھے کہ یہ یہود و نصاری کی ہیں، یہ ان برانڈز کی گھڑیاں تھی جن پر یہ کہتے تھے کہ ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ 100 ایسے اکاؤنٹ کی نشاندہی ہوئی ہے جس پر سود کے ذریعے وہ کروڑوں روپے وصول کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ منافع حرام ہے سودی سسٹم ختم کیا جائے، بینک کے منافع کو سود کہنے والے ٹی ایل پی والوں کے ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہیں اور کروڑوں روپے سود آیا ہوا ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج تک لاپتا ہے انہوں ںے کفن باندھا ہوا تھا، نہ کفن مل رہا ہے اور نہ کفن باندھنے والا مل رہا ہے، خیبر پختون خوا جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ والا، پاکستان ان دونوں جیسی منفی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ایک طرف افغانستان ہم پر بمباری کررہا تھا اور دوسری جانب ٹی ایل پی والے مرید کے میں پولیس والوں پر گولیاں پر برسارہے تھے، ایسی سیاست کرنے والوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں، ٹی ایل پی پر پنجاب حکومت نے جو ریفرنس وفاق کو بھیجا ہے وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اس میں ٹی ایل پی کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، اب وفاقی حکومت اس پر کام کررہی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہم مولانا صاحب کو ناراض نہیں کرسکتے وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کی جب بھی تجویز آتی ہے ہم انہیں اور ان کی تجویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت ٹی ایل پی پی جیسی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔