دارالخیر میر واعظ منزل کا آتشزدگی کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
دارالخیر کے ایک وفد نے مفتی غلام رسول سامون کی قیادت میں علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین میں تقسیم کے لیے ضروری امدادی سامان مقامی مسجد کمیٹی کے حوالے کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دارالخیر میر واعظ منزل سرینگر نے تنظیم کے سرپرست میر واعظ عمر فاروق کی طرف سے شہر کے علاقے فتح کدل میں آتشزدگی کے ہولناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں کئی رہائشی مکان خاکستر ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق تنظیم نے میر واعظ عمر فاروق جو کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما بھی ہیں کی نمائندگی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ میر واعظ نے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔ دارالخیر کے ایک وفد نے مفتی غلام رسول سامون کی قیادت میں علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین میں تقسیم کے لیے ضروری امدادی سامان مقامی مسجد کمیٹی کے حوالے کیا۔ دارالخیر نے صاحب ثروت افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرین کی بھرپور مدد کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میر واعظ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔