فرقہ وارانہ طاقتوں کےخلاف جنگ جاری رہےگی،ممتابنرجی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز ریاست کے عوام کو مضبوط پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ نفرت پھیلانے والی فرقہ پرست قوتوں کے خلاف لڑائی جاری رہے گی اور ان کی حکومت آئینِ ہند کے اصولوں اور اقدار کے تحفظ و استحکام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
ترنمول کانگریس ہر سال 6 دسمبر کو “سَمہتی دیوس” (یومِ یکجہتی) کے طور پر مناتی ہے۔ یہ دن ایودھیا میں 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد بھائی چارے، امن اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام عام کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سماجی پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ “اتحاد ہی طاقت ہے۔ سب کو ‘یومِ یکجہتی’ کی دلی مبارکباد۔ بنگال کی مٹی یکجہتی کی مٹی ہے، یہ رابندرناتھ، نظیرل، رام کرشن اور سوامی ویویکانند کی مٹی ہے۔ اس مٹی نے کبھی بھی نفرت کے آگے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی جھکائے گی۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب معطل شدہ ٹی ایم سی ایم ایل اے ہمایوں کبیر نے مرشد آباد کے بیلڈانگا میں ایک ایسی مسجد کی سنگِ بنیاد رکھنے کا اعلان کیا تھا جو ڈیزائن کے لحاظ سے بابری مسجد سے مشابہ ہو گی۔ یہ تقریب بھی 6 دسمبر کو ہی طے کی گئی تھی۔
ممتا بنرجی نے مزید کہاکہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، جین اور بدھ بنگال میں ہم سب شانہ بشانہ چلتے ہیں۔ ہم اپنی خوشیاں ایک دوسرے سے بانٹتے ہیں، کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت کا حق ہے، مگر تہوار سب کے ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ان تمام عناصر کے خلاف لڑتی رہے گی جو فرقہ واریت کو ہوا دے کر ملک کو کمزور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان تباہ کن قوتوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جو سماج میں نفرت کی آگ لگا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔