Juraat:
2026-07-24@06:27:01 GMT

بھوپال گیس سانحہ کی 41 برسی

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

بھوپال گیس سانحہ کی 41 برسی

ریاض احمدچودھری

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں گیس دھماکے میں 5ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کو 41سا ل مکمل ہونے کے موقع پر واقعے میں زندہ بچ جانے والے افراد اورمتاثرہ خاندانوں نے انصاف کی فراہمی سے انکار اورانکی مشکلات کو بڑھانے پر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی پرکڑی تنقید کی ہے۔2دسمبر 1984کو بھوپال میں یونین کاربائیڈ پیسٹی سائیڈ پلانٹ میں انتہائی زہریلے کیمیکل میتھائل آئسوسیانیٹ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہونے والے دھماکے میں کم سے کم 5ہزار479افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کو دنیاکا بدترین صنعتی سانحہ قراردیاجاتاہے۔سانحے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھوپال میں ایک پریس بریفنگ میں، بی جے پی کے خلاف چارج شیٹ جاری کی۔ چارج شیٹ میں بی جے پی پر الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوتوا پارٹی کی حکومت نے یونین کاربائیڈ اور ڈائو کیمیکل جیسی امریکی کارپوریشنوں کے مفادات کو دھماکے میں ہلاک اور زندہ بچ جانے والے افراد پر ترجیح دی۔
بھوپال گیس پیڈٹ مہیلا اسٹیشنری کرمچاری سنگھ کی رشیدہ بی بی نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی نے سانحے کے متاثرین کودھوکا دیا اور امریکی کمپنی ڈائو کیمیکل کو ماحولیاتی ذمہ داریوں سے آزاد ی دلائی۔متاثرین کے ایک اور نمائندے بالکرشن نامدیو نے کہاکہ 2002میں اس وقت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی نے یونین کاربائیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وارن اینڈرسن کے خلاف الزامات کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن کی رچنا ڈھینگرا نے کہاکہ بی جے پی کے دور حکومت میں متاثرین کی بحالی کونظرانداز کیاگیا۔ 2008میں وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے سانحے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو بلاک کر دیاتھا۔ پابندیوں کے باوجود ڈائو کیمیکل بھارت میں اپنے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت میں 1984 میں گیس کے اخراج کا واقعہ پیش آیا تھا جسے دنیا کی سب سے بڑی صنعتی آفت سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں پیش آیا۔ بھوپال گیس سانحہ کو 41 سال ہو چکے ہیں۔ 2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو اس گیس کے اخراج سے ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج بھی گیس متاثرین اس کالی رات کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ جس جگہ پر گیس کا ہولناک سانحہ ہوا وہاں زہریلا فضلہ ابھی تک پڑا ہوا ہے۔ حکومتوں کے تمام تر دعوؤں کے باوجود اس زہریلے فضلے کو نہیں جلایا جا سکا۔ انصاف اور راحت کے لیے لڑنے والے بہت سے لوگ اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ ذمہ داروں کو سزا دینے کا معاملہ ابھی تک عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ دراصل یو سی آئی ایل فیکٹری یونین کاربائیڈ نے 1969 میں بھوپال میں بنائی تھی۔ جس میں میتھائل آئوسیانائیڈ سے کیڑے مار دوا کی پیداوار شروع ہو گئی۔ بعد ازاں 1979 میں یہاں میتھائل آئوسیانائیڈ کی تیاری کے لیے ایک نئی فیکٹری کھولی گئی۔ لیکن ذمہ داران نے اس کی سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے۔ نتائج 2 اور 3 دسمبر کی رات کو آئے۔ فیکٹری کے ٹینک نمبر اے 610 میں پانی لیک ہو گیا۔ میتھائل آئوسیانیٹ میں پانی ڈالنے سے ٹینک کے اندر کا درجہ حرارت بڑھ گیا اور اس کے بعد زہریلی گیس فضا میں پھیل گئی۔ تقریباً 45 منٹ کے اندر تقریباً 30 میٹرک ٹن گیس کا اخراج ہوا۔ گیس کا یہ بادل پورے شہر کی فضا میں پھیل گیا اور اس کے ساتھ ہی شہر میں موت کا ننگا ناچ شروع ہو گیا۔ اس گیس کی وجہ سے 15000 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ لیکن یہ رجحان نہیں رکا۔ جو لوگ اس حادثے میں بچ گئے وہ بھی اس گیس کے اثرات سے بچ نہ سکے۔اس گیس کا اثر لوگوں کی آنے والی نسلوں میں معذوری کی صورت میں دیکھا گیا۔ اس زہریلی گیس کے اثرات سے مرنے والوں کی سرکاری اعداد و شمار ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔ یہ مختلف ذرائع سے مختلف آراء کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ابتدائی طور پر سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد 2259 بتائی گئی تھی، حالانکہ اس وقت کی مدھیہ پردیش کی حکومت نے 3,787 افراد کی گیس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔ دوسرے اندازے بتاتے ہیں کہ صرف دو ہفتوں میں 8000 افراد ہلاک ہوئے۔ باقی 8000 افراد جو گیس کا شکار تھے وہ گیس سے متعلق بیماریوں سے ہلاک ہوئے۔
بھوپال گیس سانحہ کا شکار ہونے والے متاثرین اور ان کی نسلیں جسمانی پریشانیوں کا شکار ہیں لیکن اس کے بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔ آج تک کوئی بھی یونین کاربائیڈ کی جانب سے بھوپال کی عدالت میں پیش نہیں ہوا جو گیس اسکینڈل کی ذمہ دار ہے۔ اس معاملے کو لے کر گیس متاثرین نے بھوپال کی عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔ بھوپال گروپ فار انفارمیشن اینڈ ایکشن کے ستیت ناتھ سدانگی، جو عرضی دے رہے ہیں، کہتے ہیں، "اتنے سالوں کے بعد بھی اس معاملے میں حکومت کی طرف سے صرف دلائل اور ثبوت پیش کیے جا رہے ہیں، انصاف کا ابھی بھی انتظار ہے۔ تاہم یونین کاربائیڈ کے چیئرمین اور اس وقت کے سی ای او وارن اینڈرسن کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: یونین کاربائیڈ بھوپال میں بی جے پی گیس کا گیس کے اس گیس

پڑھیں:

جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت

فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔

69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان

سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔

Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz

— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف

اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔

اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا سابق  امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟

سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔

’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘

واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس