مدارس اور مساجد کے معاملات میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی: وزیر داخلہ محسن نقوی کی علمائے اہلسنت کو یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح الفاظ میں یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت مدارس و مساجد کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔ یہ بیان انہوں نے کراچی میں معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان کی رہائش گاہ پر ممتاز علمائے اہلسنت سے ملاقات کے دوران دیا۔
اس ملاقات میں حالیہ پیش آنے والے واقعات پر تفصیل سے گفتگو ہوئی، اور علمائے کرام نے مختلف مذہبی و سماجی امور پر اپنا موقف وزیر داخلہ کے سامنے رکھا۔ محسن نقوی نے علمائے کرام کی بات نہ صرف توجہ سے سنی بلکہ ان کے تحفظات اور مسائل کوترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جلد ہی اسلام آباد میں ایک تفصیلی نشست کا اہتمام کیا جائے گا، جہاں تمام جائز مسائل کو باضابطہ طور پر زیر غور لایا جائے گا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے۔مدارس اور مساجد کے امور میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ علمائے کرام اور حکومت کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانے کے لیے ایک فوکل پرسن بھی تعینات کیا جائے گا، جو ہر وقت رابطے میں رہے گا۔
یہ ملاقات مذہبی قیادت اور حکومت کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے، جو موجودہ حالات میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر پس منظر یا اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی جائے؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔