خیبرپختونخوا کی کابینہ سازی میں مشکلات، پی ٹی آئی اراکین نے بڑا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو حکومت سازی سے پہلے بڑی مشکل کا سامنا ہے، پی ٹی آئی کے اراکین نے کابینہ میں منختب نمائندوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
خیبر پختونخواہ اسمبلی میں حکومتی ارکان نے وزیراعلی سے کابینہ میں منتخب ارکان کو شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر منتخب ارکان کی شمولیت پر بھرپور مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعلی سہیل آفریدی کی زیر صدارت اسمبلی میں ہوا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں ارکان اسمبلی نے وزیراعلی کو بتایا کہ ارکان اسمبلی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آئے ہیں اور کابینہ میں غیر منتخب لوگوں کو شامل کرنا منتخب ارکان کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اراکین نے کہا کہ مزمل اسلم کے علاوہ کسی غیر منتخب شخص کو کابینہ میں شامل نہ کیا جائے، منتخب نمائندوں میں سے جس کو چاہے کابینہ میں شامل کرے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے اراکین اسمبلی کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا ہے کہ کابینہ کا حتمی فیصلہ بانی چیئرمین کو کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کابینہ میں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔