—فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل کا معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ 

سرکاری ذرائع کے مطابق صوبہ وزیراعلیٰ کے حلف کے بعد بھی 6 دنوں سے بغیر کابینہ کے چل رہا ہے، صوبائی کابینہ نہ ہونے کے باعث اہم پالیسی فیصلے رک گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ اہم منصوبوں کی منظوری بھی رک گئی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ میں کچھ نئے چہرے شامل کرنا چاہتے ہیں۔

سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست پر اعتراضات دور

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے رجسٹرار آفس اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔

اس حوالے سے سابق مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کابینہ نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، امید ہے وزیراعلیٰ رواں ہفتے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر لیں گے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعلیٰ کے پاس مختصر کابینہ رکھنے کی ہدایات موجود ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے لیے دوسرے سہ ماہی کے فنڈز جاری کر دیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بشریٰ بی بی بلاول بھٹو زرداری پاکستان سعودی عرب سہیل آفریدی مریم نواز

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن