مودی کو بتادیا ہے کہ پاکستان سے جنگ نہیں ہونی چاہیے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو بتادیا ہے پاکستان سے جنگ نہیں ہونی چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے دیوالی کے موقع پر ٹیلی فون پر تجارت کے علاوہ کئی دیگر امور پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کچھ دیر پہلے بھارتی وزیراعظم سے تفصیلی گفتگو ہوئی، تجارت کے ذریعے معاملات حل کررہا ہوں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین اور یورپی ممالک نے برسوں سے امریکا پر سخت محصولات عائد کئے، کسٹم ڈیوٹی ہماری قومی سلامتی کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ محصولات کے بغیر امریکی معیشت گرے گی، ٹرمپ نے بتایا کہ بھارت روس سے مزید تیل نہیں خریدے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔