جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے رضوان احمد کا کہنا ہے کہ مناسب پیکیجنگ اور پروسیسنگ انفراسٹرکچر کے فقدان کے باعث ہم ملکی اور بین الاقوامی دونوں منڈیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اخروٹ کی صنعت جو کبھی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی تھی، بھارتی حکومت کی بے حسی اور متعصبانہ رویے کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ ذرائع کے مطابق اگست 2019ء میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے ترقی اور خوشحالی کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود یہ صنعت ناقص انفراسٹرکچر، کمزور مارکیٹ روابط اور انتظامی حمایت کے فقدان کی وجہ سے دم توڑ رہی ہے۔ بھارت میں اخروٹ کی کل پیداوار کا 95فیصد سے زیادہ حصہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیدا ہوتا ہے جو سالانہ 320,000میٹرک ٹن سے زیادہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت بھر میں اخروٹ کی کاشت کے تحت 109,000ہیکٹر میں سے تقریبا 89,000ہیکٹر مقبوضہ علاقے میں ہیں۔ اس کے باوجود علاقے میں جدید پروسیسنگ، پیکیجنگ کی سہولیات اور خشک میوہ جات کی منظم منڈیوں کے فقدان کی وجہ سے یہ صنعت زوال پذیر ہے۔

حالیہ برسوں میں اخروٹ پروسیسنگ کے کئی یونٹس کی بندش نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پلوامہ کے ایک کاشتکار نے بتایا کہ ہم کیلیفورنیا، چین اور چلی سے درآمد شدہ اخروٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔کشمیر کے ڈرائی فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی بہادر خان نے بتایا کہ اخروٹ پر عائد 5%جی ایس ٹی نے اضافی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے گری دار میوے پر جی ایس ٹی ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کوئی سپلائی چین یا باقاعدہ منڈی نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکار اپنی پیداوار کم قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ کپواڑہ سے بشیر احمد نے کہا کہ ہمارے پاس مناسب منڈیوں یا پروسیسنگ مراکز کی کمی ہے۔ ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ اخروٹ کی صنعت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بالواسطہ یا بلاواسطہ 7لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگارفراہم کرتی ہے۔ تاہم کٹائی کے بعد ہینڈلنگ سپلائی چین میں ایک کمزور کڑی بنی ہوئی ہے، زیادہ تر کاشتکار اخروٹ کو غیر صحت بخش حالات میں روایتی طور پر خشک کرتے ہیں اور پرانا طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جو برآمدی قدر کو کم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریڈنگ، برانڈنگ اور کوالٹی کنٹرول کی کمی مارکیٹ کی مسابقت کو مزید محدود کرتی ہے۔

جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے رضوان احمد کا کہنا ہے کہ مناسب پیکیجنگ اور پروسیسنگ انفراسٹرکچر کے فقدان کے باعث ہم ملکی اور بین الاقوامی دونوں منڈیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اخروٹ کے شعبے کے حوالے سے مودی حکومت کی بے حسی واضح ہے۔ جدید پروسیسنگ یونٹس اور مارکیٹنگ پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری نہ ہونے سے کشمیریوں کی معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ صنعت کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے سے نہ صرف مقامی کاشتکاروں کا معاشی نقصان ہو رہا ہے بلکہ دوسروں پر ان کا معاشی انحصار بھی بڑھ رہا ہے جس سے علاقے کی اخروٹ کی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں اخروٹ کی وجہ سے اخروٹ کی کے فقدان حکومت کی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا