زمین پر ہر سال 57 نئے’’سپرہاٹ‘‘ دن شامل ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زمین پر ہر سال اوسطاً 57 مزید انتہائی گرم دن شامل ہوں گے۔ یہ تحقیق ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن اور امریکی ادارے کلائمٹ سینٹرل نے مشترکہ طور پر کی ہے۔
مطالعے کے مطابق ’’سپرہاٹ‘‘ دن وہ ہوتے ہیں جو سال کے 90 فیصد دنوں سے زیادہ گرم ہوں۔ 1991 سے 2020 کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کے اثرات سے ایسے دنوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ پیرس معاہدے کے بعد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے، لیکن موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2100 تک ہر سال مزید 57 سپرہاٹ دن دنیا کا حصہ بن جائیں گے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر پیرس معاہدہ نہ ہوتا تو دنیا 4 ڈگری درجہ حرارت اضافے کی طرف بڑھ رہی تھی، جس سے ہر سال 114 اضافی گرم دن پیدا ہوتے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہر سال
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔