کئی دہائیوں بعد سردیاں شدید اور طویل ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ماہرین نے اس بار سردیاں شدید اور طویل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے کہناہے کہ رپورٹ کے مطابق اس سال کئی دہائیوں بعد سردیاں بہت شدید ہونے کا خدشہ ہے، شدید سرد موسم خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرد موسم کی وجہ سے خریف کی فصلوں کی کٹائی میں طوفانی بارشوں سے رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، بالائی علاقوں میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، دریاؤں میں پانی کی کمی سے آب پاشی کے نظام پر اثر پڑسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول سے زیادہ سردی موسمی تبدیلی لانینا کی وجہ سے پڑنے کا امکان ہے، لانینا اس وقت بنتا ہے جب بحرالکاہل میں سطح سمندر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر کم ہو جاتا ہے، یہی لالینا دنیا بھر کے موسم پر اثرانداز ہوتا ہے
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی روبوٹ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین میں ایک ہیومینائیڈ روبوٹ نے تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے 66 میل تک مسلسل پیدل چل کر گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ کامیابی چینی ٹیکنالوجی کمپنی آگیبوٹ کے روبوٹ اے 2 نے حاصل کی، جس نے صوبہ جیانگژو سے روانہ ہو کر شنگھائی تک کا طویل سفر طے کیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اے 2 روبوٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ایسے سسٹمز کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے جو بیٹری بدلنے کے دوران بھی حرکت جاری رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جس سے یہ بغیر کسی توقف کے لگاتار چل سکتا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق چوبیس گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل واک کے دوران اے 2 نے مختلف سطحوں پر قدم رکھا، جن میں اسفالٹ، ٹائل شدہ فرش اور پل شامل ہیں، اور اس نے تمام ٹریفک قوانین کی پابندی بھی کی۔
کمپنی آگیبوٹ نے اعلان کیا کہ اے 2 کی یہ کارکردگی کسی بھی ہیومینائیڈ روبوٹ کے لیے طویل پیدل سفر کے حوالے سے گنیز ریکارڈ کی تصدیق کرتی ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق روبوٹ کے سفر کے اختتام پر اے 2 نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں لطیفہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اسے شاید اپنی جوتوں کی نئی جوڑی درکار ہو۔
یہ واقعہ روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں انسانی قابو کے نئے افق کھولنے کی علامت ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں روبوٹ طویل فاصلے اور پیچیدہ ماحول میں بھی خود مختار طور پر کام کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔