ٹیلیگرام چینل (https://t.me/CyberIsnaadFront1) پر جاری کردہ ایک تین منٹ کے ویڈیو کلپ میں کمپنی کے اندر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج پیش کی ہے، جس میں صہیونی فوجی سازوسامان کی تیاری کے مختلف مراحل کو دکھایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ہیکر گروہ "الجبهة الإسناد السیبرانیة" (سائبر سپورٹ فرنٹ) نے اسرائیلی وزارتِ جنگ کے اہم ترین دفاعی منصوبوں کی خفیہ معلومات افشا کر دی ہیں، جن میں لیزری فضائی دفاعی نظام "آئرن بیم" (Iron Beam)، کثیرالمقاصد ڈرون "ہرمس 900" (Hermes 900)، اسپائیک میزائل (Spike) اور دیگر جنگی ساز و سامان کے منصوبے شامل ہیں۔ اس گروہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وزارتِ دفاعِ اسرائیل سے وابستہ بظاہر نجی کمپنی "مایا" میں کامیاب ہیکنگ کاروائی مکمل کی ہے۔

اس ہیکنگ کاروائی کے ذریعے رسائی حاصل کر کے ان حساس منصوبوں کے ڈیزائن، تیاری اور ترقی سے متعلق انتہائی قیمتی معلومات حاصل کی ہیں۔ کمپنی مایا دراصل اسرائیل کی بڑی دفاعی صنعتوں البت سسٹمز (Elbit Systems) اور رافائل (Rafael) کے لیے تحقیق و ترقی (R&D) کا مرکز ہے، اور یہ دونوں کمپنیاں وزارتِ دفاعِ اسرائیل کے تکنیکی و صنعتی بازو کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ہیکر گروہ نے اپنے ٹیلیگرام چینل (https://t.

me/CyberIsnaadFront1) پر جاری کردہ ایک تین منٹ کے ویڈیو کلپ میں کمپنی کے اندر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج پیش کی ہے، جس میں صہیونی فوجی سازوسامان کی تیاری کے مختلف مراحل کو دکھایا گیا ہے۔  

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان