یورپی یونین نے یوکرین کی اقتصادی اور دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جامع مالی معاونت پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، یورپی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ یوکرین کو آئندہ دو برسوں کے دوران مسلسل مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ جنگ سے متاثرہ معیشت کو مستحکم کر سکے اور اپنے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط بنائے۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی مالی اور فوجی مدد نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے بلکہ یورپ کے امن و استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، امداد کے حجم، تقسیم کے طریقہ کار اور فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق حتمی فیصلہ دسمبر میں متوقع ہے۔ اس پیکیج میں ممکنہ طور پر گرانٹس، قرضے اور تکنیکی معاونت شامل ہوگی تاکہ یوکرینی حکومت اپنے بجٹ خسارے پر قابو پا سکے اور جنگ کے دوران بنیادی خدمات برقرار رکھ سکے۔

صدرِ یورپی کونسل انتونیو کوسٹا نے اس موقع پر کہا کہ یورپی یونین یوکرین کو دفاعی ضروریات کے لیے تمام ممکنہ وسائل فراہم کرے گی۔ ان کے بقول، “یہ وقت یوکرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے کیونکہ اس کا دفاع پورے یورپ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔”

یورپی یونین کے اس فیصلے پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے یورپی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ حمایت یوکرینی عوام کے حوصلے کو مزید مضبوط کرے گی۔ انہوں نے اسے “یورپی اتحاد اور جمہوری اقدار کی فتح” قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: یورپی یونین

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی