بھارت کی سب سے بڑی آئل ریفائننگ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے کہا ہے کہ وہ روسی سپلائرز پر عائد مغربی پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور ملکی توانائی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی کارروائیوں میں ضروری تبدیلیاں کرے گی۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ نئی امریکی، یورپی اور برطانوی پابندیوں کے بعد بھارتی خریدار روسی خام تیل کی درآمد روک سکتے ہیں۔ امریکا، یورپی یونین اور برطانیہ نے بدھ کے روز روسی آئل کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریز کا روسی تیل کی درآمدات میں کمی کا فیصلہ

ریلائنس، جو روزنیفٹ سے 10 سالہ معاہدے کے تحت روزانہ تقریباً 5 لاکھ بیرل خام تیل خریدتی ہے، رواں سال مقدار کے لحاظ سے روسی تیل کی سب سے بڑی بھارتی خریدار رہی ہے۔ روسی کمپنی روزنیفٹ نایارا انرجی میں بھی 49 فیصد حصص رکھتی ہے، جو بھارتی ریاست گجرات میں ودینار ریفائنری چلاتی ہے۔

کمپنی کے مطابق وہ نئی پابندیوں اور تعمیل سے متعلق تقاضوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ خام تیل کی درآمد اور یورپ کو ریفائن شدہ مصنوعات کی برآمد دونوں پر اثرات کو سمجھا جا سکے۔ ریلائنس نے کہا کہ وہ بھارتی حکومت کی ہدایات پر عمل کرے گی تاکہ ملک کے توانائی تحفظ کے اہداف کے مطابق رہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ نئی مارکیٹ صورتحال اور ضوابط کے مطابق اپنی کارروائیوں میں ردوبدل کرے گی جبکہ سپلائرز کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھے گی۔

ذرائع کے مطابق، ریلائنس اور دیگر بھارتی ریفائنریاں اپنے روسی تیل کے معاہدوں کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی تیل براہِ راست روزنیفٹ یا لوک آئل سے نہ خریدا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: روسی تیل کے معاملے پر واشنگٹن اور دہلی کے درمیان ابہام برقرار

یاد رہے کہ اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ اس تجارت سے ماسکو کو جنگ جاری رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔

روسی حکومت نے ایسے اقدامات کو شراکت دار ممالک کی خودمختار حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2022 سے روس بھارت کا سب سے بڑا تیل فراہم کنندہ بن چکا ہے اور رواں سال اب تک بھارت کی تیل درآمدات کا 36 فیصد سے زائد روس سے آیا ہے، جبکہ اسی دوران بھارت یورپ کو ریفائن شدہ ایندھن کا ایک نمایاں برآمد کنندہ بن گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت تیل روس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت تیل روسی تیل کے مطابق رہی ہے تیل کی

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم