افواجِ پاکستان کا نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کی 77ویں برسی پر خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
(ویب ڈیسک )نائیک سیف علی جنجوعہ شہید (ہلالِ کشمیر) کی 77ویں برسی کے موقع پر افواجِ پاکستان، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، سربراہانِ پاک بحریہ و پاک فضائیہ اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نائیک سیف علی جنجوعہ نے 1948 کی جنگ میں غیر معمولی بہادری، جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، قوم اپنے بہادر بیٹوں کی قربانیوں پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی اور ان کی مقروض رہے گی۔
اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کے خلاف کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج
دوسری جانب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ نائیک سیف علی جنجوعہ نے دشمن کی یلغار روک کر تاریخ میں جرات و شجاعت کا نیا باب رقم کیا، وہ زخمی ہونے کے باوجود چٹان کی طرح محاذ پر ڈٹے رہے اور دشمن کی پیش قدمی کو روکا۔
محسن نقوی نے کہا کہ شہید نائیک سیف علی جنجوعہ جیسے بہادر سپوت افواجِ پاکستان اور پوری قوم کا فخر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نائیک سیف علی جنجوعہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔