کراچی ماسٹر پلان نافذ ہو جاتا تو پیپلز پارٹی کے وزرا کنگلے ہو جاتے:خواجہ اظہار الحسن
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ کراچی ماسٹر پلان نافذ ہو جاتا تو پیپلز پارٹی کے وزرا کنگلے ہو جاتے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دباؤ پر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے، کراچی ماسٹر پلان کی اتھارٹی لوکل گورنمنٹ سے چھین لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کراچی کسی ایک ادارے کے کنٹرول میں نہیں ہے، تمام اداروں کو یکجا کرنے کے لیے کراچی ماسٹر پلان کا نفاذ ناگزیر ہے، یہ ماسٹر پلان کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا۔
خواجہ اظہار نے مزید کہا کہ اگر کراچی ماسٹر پلان نافذ ہو جاتا تو پیپلز پارٹی کے وزرا کنگلے ہو جاتے، کیونکہ پھر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے راستے بند ہو جاتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کراچی ماسٹر پلان خواجہ اظہار ہو جاتے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔