data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یروشلم: اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک متنازع بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے باوجود غزہ کے زیرِ قبضہ حصے میں تباہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس  کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاعنے اسرائیلی فوج (IDF) کو حکم دیا ہے کہ وہ زرد زون  جو فی الحال اسرائیل کے کنٹرول میں ہے، اس میں عمارتوں کو مسمار کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی حکام سے جاری مشاورت کے ساتھ کیا جا رہا ہے جن میں نائب صدر، وزرائے خارجہ و دفاع، صدارتی ایلچی اور CENTCOM کے کمانڈرز شامل ہیں، یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ غزہ میں موجود تمام  دہشت گرد سرنگوں  کو مکمل طور پر ختم اور حماس کو غیر مسلح کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا عسکری خاتمہ اور حماس کو غیر مسلح کرنا ہی اصل جنگی کامیابی ہے کیونکہ 60 فیصد سرنگیں اب بھی باقی ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اب ان کا ہدف غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنانا ہے۔

خیال رہے کہ 10 اکتوبر کو خطے اور عالمی ثالثوں کی کوششوں سے غزہ میں جنگ بندی معاہدہ عمل میں آیا تھا جس کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، جزوی اسرائیلی انخلا اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام کی شقیں شامل تھیں۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع کے تازہ ترین احکامات نے اس امن عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 68 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں