Juraat:
2026-06-03@07:33:38 GMT

بیمار لوگ بیمار نظام صحت

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

بیمار لوگ بیمار نظام صحت

میری بات/روہیل اکبر

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ہمارے نظام صحت کا پول کھول دیا ہے، ان کاکہنا ہے کہ ملک میں ہیلتھ کیئر نہیں بلکہ سک کیئر سسٹم ہے یہ محض ایک طنزیہ جملہ نہیں بلکہ ہمارے نظامِ صحت کا چہرہ آئینے میں دکھا دیتا ہے۔ یہ وہ اعترافِ جرم ہے جو کسی اپوزیشن لیڈر نے نہیں بلکہ خود حکومتی وزیر نے کیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر یہ سک کیئر سسٹم ہے تو اسے بنایا کس نے؟ اور درست کرے گا کون؟ہمارے ہسپتالوں میں علاج کے بجائے اذیت ملتی ہے ڈاکٹر وقت پر نہیں آتے دوائیں نایاب اور سہولتیں خواب بن چکی ہیں ۔بڑے شہروں کے چند ہسپتالوں کو چھوڑ کر پورے ملک میں عوام بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہیں حکمرانوں کے لیے بیرونِ ملک علاج آسان ہے مگر عام آدمی کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں داخلہ بھی مشکل یہی دوہرا معیار ہمارے صحت کے نظام کی بنیادیں ہلا چکا ہے ایک طرف غریب کے بچے ویکسین نہ ملنے سے مر جاتے ہیں دوسری طرف اربوں روپے کی مشینری زنگ کھا رہی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر صحت کا یہ اعتراف دراصل ایک سوال ہے کہ اگر نظام بیمار ہے تو اسے صحت مند کرنے کا علاج کہاں سے شروع ہوگا؟کیا صرف بیانات سے علاج ممکن ہے؟جب تک ایمانداری، احتساب اور خدمت کا جذبہ صحت کے شعبے میں واپس نہیں آتا تب تک ہر وزیر یہ کہتے رہیں گے کہ یہ ہیلتھ نہیں سک کیئر سسٹم ہے اور عوام یہ سوچتے رہیں گے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارے پورے نظامِ صحت کی بدنما تصویر صاف دکھائی دیتی ہے ہمارے ہسپتالوں میں علاج کے بجائے اذیت ملتی ہے غریب مریض بستر سے زیادہ فرش پر لیٹے نظر آتے ہیں دوائیں غائب ہیں، عملہ لاپرواہ اور انتظامیہ بے حس جہاں ڈاکٹر مسیحا بننے کے بجائے وقت گزارنے پر مجبور ہیں وہاں عوام کے لیے علاج ایک خواب بن چکا ہے وفاقی وزیر صحت خود کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک بننے جا رہا ہے مگر کیا ہم نے ہسپتال، ڈاکٹر، نرسز اور ادویات اسی رفتار سے بڑھائی ہیں؟تو اسکا جواب ہے نہیں! مزید المیہ یہ ہے کہ انہی وزیر صحت کے بقول کراچی سے گلگت تک سیوریج کا پانی استعمال ہو رہا ہے سوچنے کی بات ہے کہ جب پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں تو بیماریوں کے علاج کا کیا حال ہوگا؟آلودہ پانی ہیپاٹائٹس، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور درجنوں بیماریوں کو جنم دے رہا ہے اور ہمارے ہسپتال ان ہی بیماریوں سے بھرے پڑے ہیں یہ کیسا نظام ہے جہاں آبادی اور بیماریاں رکنے کا نام نہیں لے رہی اگر دیکھا جائے تو وفاقی وزیر کا اعتراف دراصل سوال ہے اگر نظام بیمار ہے تو علاج کہاں سے شروع ہوگا؟کیا بیانات سے دوائی بنے گی؟ پاکستان میں صحت کا شعبہ ہمیشہ سے ایک دردناک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے آبادی کے لحاظ سے ہم دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہو چکے ہیں مگر علاج معالجے کی سہولتیں اب بھی پچھلی صدی کے معیار پر کھڑی ہیں صحت کے حوالہ سے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سرکاری و نجی ہسپتالوں کی تعداد تقریباً 13 سو سے زائد ہے جن میں بڑے تدریسی اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز، تحصیل ہیڈکوارٹرز اور دیہی مراکز صحت شامل ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہسپتال24 کروڑ آبادی کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں؟ افسوس کہ جواب نفی میں ہے دیہی علاقوں میں اکثر مراکز صحت بند پڑے ہیں وہاں ڈاکٹر تو درکنار، بنیادی دوائیاں بھی دستیاب نہیں شہری علاقوں میں صورتحال قدرے بہتر ہے لیکن وہاں بھی مریضوں کا رش، بستر کی کمی، پرانے آلات اور نااہلی کا رونا ہر روز سننے کو ملتا ہے بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں داخلے کے لیے سفارش، ٹوکن اور کبھی کبھار خوش قسمتی درکار ہوتی ہے گنگا رام، میو، پمز، جناح اور سول جیسے ہسپتال انسانیت کی آخری امید ضرور ہیں مگر ان کی حالت کسی جنگ زدہ ملک کے شفاخانوں سے مختلف نہیں دوسری طرف نجی ہسپتالوں نے علاج کو کاروبار بنا لیا ہے، فیسوں کے ایسے نرخ مقرر ہیں جو ایک عام شہری کی دسترس سے باہر ہیں آپریشن، سی سیکشن، یا ڈینگی کا علاج غریب آدمی کے لیے ایک خواب بن چکا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ علاج اب صرف ان کا حق رہ گیا ہے جن کے پاس دولت ہے باقی عوام کے لیے دعا ہی واحد سہارا ہے حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر صحت کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کوئی نہ لا سکا ۔اگر ہم اپنے بجٹ کا صرف دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد بھی صحت کے شعبے کو دے دیں تو بہتری ممکن ہے۔ دیہی مراکز صحت کو فعال بنانا ڈاکٹروں کو وہاں تعینات رکھنا اور ہر ضلع میں جدید تشخیصی مراکز قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔پاکستان کے عوام ٹیکس دیتے ہیں امید رکھتے ہیں کہ انہیں علاج کے وقت ذلت نہ اٹھانی پڑے مگر بدقسمتی سے آج بھی سڑک کنارے، بینچ پر یاہسپتال کے فرش پر دم توڑنے والے مریض ہمارے نظامِ صحت کے منہ پر تمانچہ ہیں ۔اس لیے حکمران ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگی بچانے والے منصوبوں پر بھی توجہ دیں یونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے شہری صحت مند نہ ہوں۔ اوپر گنگا رام ہسپتال کا ذکر آیا ہے تو اس حوالہ سے عرض ہے کہ لاہور میںگنگا رام ہسپتال اپنی تاریخی اہمیت اور عوامی خدمت کی بدولت ایک نمایاں شناخت رکھتا ہے، برسوں سے یہ ہسپتال غریب اور نادار مریضوں کے علاج کے لیے امید کی کرن سمجھا جاتا رہا ہے مگر آج اس عظیم ادارے کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے گنگا رام ہسپتال جو وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت کے دفاتر سے صرف چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے ۔صفائی ستھرائی کے معاملے میں شدید غفلت کا شکار ہے ہسپتال کے اردگرد اور اندرگندگی کے ڈھیر ، تعفن زدہ فضا اور کچرے سے اٹے راستے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ حیرت ہے کہ جہاں سے روز وزیر، سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ افسران گزرتے ہیں، وہاں یہ منظر ہے تو باقی صوبے کا کیا حال ہوگا ؟یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ غفلت اور عدم احساسِ ذمہ داری کی داستان ہے مریض علاج کی امید میں آتے ہیں مگر گندگی، مکھیاں اور بدبو ان کے دکھوں میں اضافہ کر دیتی ہیں ۔کیا صحت کے ذمہ داروں کو معلوم نہیں کہ ہسپتال میں صفائی ہی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی پہلی شرط ہوتی ہے؟
افسوس کا مقام یہ ہے کہ صفائی مہموں کے بڑے بڑے نعرے لگانے والے ادارے عملی میدان میں کہیں دکھائی نہیں دیتے حالانکہ ایک صاف ستھرا ہسپتال نہ صرف مریضوں کی صحت بہتر کرتا ہے بلکہ حکومت کی نیک نامی کا باعث بھی بنتا ہے اگر گنگا رام جیسا ادارہ بھی گندگی کے ڈھیر تلے دب جائے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نظامِ صحت صرف کاغذوں پر زندہ ہے سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہمارے ہسپتال صرف عمارتیں رہیں گے یا شفا خانے بھی بن پائیں گے اگر واقعی ہیلتھ کیئر سسٹم قائم کرنا ہے تو سب سے پہلے عوام کو پینے کا صاف پانی، دیانت دار انتظامیہ اور عملی اصلاحات دینا ہوں گی ورنہ آنے والے سالوں میں تاریخ یہی لکھے گی کہ پاکستان میں ہیلتھ کیئر نہیں سک کیئر سسٹم تھا اور قوم خاموش تماشائی تھی!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ہسپتالوں میں ہمارے ہسپتال سک کیئر سسٹم وفاقی وزیر نہیں بلکہ گنگا رام یہ ہے کہ ہیں مگر علاج کے صحت کے کے لیے صحت کا رہا ہے

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی