Jasarat News:
2026-06-03@04:59:52 GMT

نظام مبنی بر انصاف

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-03-8

 

سید اقبال ہاشمی

ملک بنے ہوئے آٹھ دہائیاں گزر گئی ہیں لیکن ابھی تک ہم اپنے بنیادی مسائل کا پائدار حل تلاش نہیں کر سکے ہیں ناانصافی کی دہائیاں دیتے دیتے ربع صدی میں ہمارا ایک بازو کٹ گیا لیکن حالات و واقعات کی یکسانیت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔ چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا ہے۔ ختم کیا ہو؟ سیاست کی بنیاد ہی یہی ہے۔

 

ایسا بھی نہیں ہے کہ نظام سلطنت اور انتظام آمدن کے معاملے میں کوئی پیش رفت بالکل بھی نہیں ہوئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں ہونے والی مفاہمت اس کی عمدہ مثال ہے۔ آرٹیکل 160 کے تحت 1973 کے آئین میں نیشنل فائنانس کمیشن کے خد و خال پہلے ہی بنا دیے گئے تھے اور یہ طے پایا تھا کہ صدر پاکستان ہر پانچ سال بعد نیشنل فائنانس کمیشن کی تشکیل دیں گے جو کہ ٹیکسوں کے تقسیم کا طریقہ کار وضع کرے گا۔ لیکن اس سلسلے میں قوانین اور تقسیم کے طریقہ کار پر بڑی پیش رفت اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ممکن ہوئی۔ اس میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ صوبوں کا حصہ پچھلے کمیشن میں طے کردہ حصے سے کم نہیں کیا جا سکے گا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ صوبوں کو ملنے والا حصہ صرف آبادی کی بنیاد پر طے نہیں کیا جائے گا بلکہ متعدد پیمانوں کو استعمال کرکے طے کیا جائے گا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں یہ فیصلہ ہوا کہ غربت، پسماندگی، ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت اور رقبہ کی بنیاد پر ٹیکس ریونیو کا 57.

5 فی صد حصہ صوبوں کو ملے گا جو کہ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کو بالترتیب 52، 25، 15 اور 9 فی صد کے حساب سے ادا کی جائے گی۔

 

اب بھی تمام صوبوں بشمول پنجاب سے یہ آوازیں اٹھتی رہتی ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ میں ہم اپنے بھائیوں کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پنجاب کی منطق یہ ہے کہ ہماری سب سے زیادہ آبادی اور جی ڈی پی میں سب سے زیادہ حصہ یعنی 61 فی صد کے باوجودِ ریونیو میں نسبتاً کم حصہ ہے۔ بلوچستان اپنے وسیع رقبہ اور معدنی وسائل کی دہائی دیتا ہے تو سندھ سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کے باوجود کم حصہ پر شاکی نظر آتا ہے۔ کے پی کے وسائل پر دوسرے صوبوں کی دست درازیوں پر غیر مطمئن ہے۔

 

پنجاب کی جی ڈی پی کی منطق بادی النظر میں تو بڑی جاندار نظر آتی ہے لیکن ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ جی ڈی پی سے اس معاملے کا تعلق کتنا ہے؟ آسان الفاظ میں جی ڈی پی کسی علاقے میں زراعت، صنعت اور خدمات کی کل سالانہ پیداوار کو کہتے ہیں۔ یہ اس علاقے کا سال بھر کا آؤٹ پٹ ہوتا ہے جس کا فائدہ اس علاقے کے لوگ خود اٹھاتے ہیں۔ اس پر جو ٹیکس دیا جاتا ہے وہ البتہ حکومت وصول کرتی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں ٹیکس تقسیم کیا جاتا ہے نہ کہ جی ڈی پی۔ اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کا وفاق کی ٹیکس آمدنی میں فی صد حصہ بالترتیب 49، 25، 16 اور 10 فی صد ہے جبکہ جی ڈی پی میں فی صد حصہ 61، 25، 10 اور 3 فی صد ہے۔ اصولی طور پر تو جتنا حصہ جی ڈی پی میں ہے اتنا ہی ٹیکس میں ہونا چاہیے لیکن بہ نسبت جی ڈی پی پنجاب کا ٹیکس میں حصہ حیرت انگیز طور پر کم کیوں ہے؟ سندھ کا برابر کیوں ہے؟ کے پی کے اور بلوچستان کا زیادہ کیوں ہے؟ صرف پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی کم جمع ہوتا ہے۔ کیا وہاں ٹیکس چوری زیادہ ہوتی ہے؟ یا کوئی اور عناصر کار فرما ہیں؟ کے پی کے اور بلوچستان زیادہ ٹیکس دیتے ہیں تو اصولی طور پر تو انہیں زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔ نمبروں اور فارمولوں کے گورکھ دھندے میں انصاف گم نہیں ہو جانا چاہیے۔

 

اب رہا یہ سوال کہ صوبوں کو حصہ ملنے کے بعد کیا یہ پیسہ عوام پر خرچ ہو رہا ہے تو اس کا جواب یہی ہے کہ پنجاب اور کے پی کے میں تو پھر بھی صوبائی حکومتیں کچھ کام کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں اور سی پیک کے منصوبوں کی وجہ سے بلوچستان میں بھی ترقی ہو رہی ہے لیکن سندھ میں نہ تو سی پیک کا کوئی قابل ذکر حصہ ہے اور نہ وسائل کی تقسیم مبنی بر انصاف ہے۔ کراچی صوبے کا نوے فی صد ریونیو پیدا کرتا ہے لیکن ترقیاتی منصوبوں میں اس کا حصہ صرف پانچ فی صد ہے اور کراچی کا ابتر حال کسی سے مخفی بھی نہیں ہے۔ کراچی کے ساتھ سمندر ہے تو یہ اس کا قدرتی ایڈوانٹیج ہے۔ جیسے کہ کے پی کے کو پانی اور قدرتی وسائل ، پنجاب کو زراعت اور صنعت اور بلوچستان کو قدرتی وسائل کا ایڈوانٹیج ہے۔ قدرت بے انصاف نہیں ہے۔ کراچی کا بہت سا ریونیو تو ڈرائی پورٹس بنا کر منتقل کیا جا چکا ہے پھر بھی کراچی ریونیو میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے۔ اور اس کی اصل وجہ یہاں کی تجارتی برادری ہے جو کہ صنعت و تجارت کے تمام میدانوں میں ہمیشہ نت نئے آئیڈیاز تواتر سے لے کر آتی رہتی ہے۔

 

ساری دنیا میں زیادہ تر ٹیکس وصول کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس ہوتا ہے لیکن وفاق سے لڑ جھگڑ کر بمشکل صوبوں کو ایک مناسب حصہ ملنا شروع ہوا ہے۔ ابھی اس میں بھی بہت کچھ پیش رفت باقی ہے جس میں سر فہرست نیتوں کی درستی ہے۔ پیپلز پارٹی نے جس گراس روٹ لیول کا نعرہ لگا کر صوبوں کو حصہ دلوایا تھا اب اسے بلدیاتی سطح پر منتقل کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟ اور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی ہی کیا باقی پارٹیاں بھی برابر کی ہی قصور وار ہیں۔

 

ہم مسلمان ہیں اور پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن معاشی اعداد و شمار کو بھی ہم تعصب کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ متوازن سوچ کے ساتھ دیکھیں تو پتا چل جائے گا کہ کہاں کہاں کون کون سی بے ایمانیاں ہو رہی ہیں؟ اور انہیں کیسے درست کیا جا سکتا ہ

اقبال ہاشمی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے پی کے اور بلوچستان ایف سی ایوارڈ میں سب سے زیادہ صوبوں کو جی ڈی پی ہے لیکن

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی