10 فیصد فری شپ: عدالتی حکم پر سندھ کے تمام نجی اسکولوں کے آڈٹ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-08-6
کراچی ( اسٹاف ر پورٹر)صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ اور سیکرٹری تعلیم زاہد علی عباسی نے یہ واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے آئی درخواست 2025 /1592 میں مورخہ 9 اکتوبر کے جاری کیے گئے فیصلے کی روشنی میں تمام نجی تعلیمی ادارں کی دس فیصد فری شپ کی فراہمی کے ریکارڈ کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ پہلے مرحلہ میں سندھ بھر کے چھ ریجنز کے وہ تمام اسکولز جن کی ایک سے زائد شاخیں ہیں انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خطوط جاری کر دیے گئے ہیں جن میں انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ کمیٹیز ان اسکولوں کا پندرہ یوم کے اندر اندر دورہ کریں گی اور طلبہ کو ان کے اسکول میں کل تعداد کے دس فیصد فراہم کی گئی فری شپ کا مکمل آڈٹ کریں گی اور اس کی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں جمع کروائیں گی۔مزید برآں سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن کو مورخہ 10 نومبر کو ریکارڈ کے ساتھ طلب کیا ہے۔ وہ اسکولز جو دس فیصد فری شپ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر رہے ان کی رجسٹریشن ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں منسوخ اور معطل کر دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اسکولز جنہوں نے اپنی رجسٹریشن اور اس کی تجدید کے لئے درخواستیں جمع کرواتی ہیں اور وہ دس فیصد فریم شپ کے قانون پر عملدرآمد نہیں کر رہے ان کے رجسٹریشن اور اس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ وہ اسکول جو دورہ اور آڈٹ کرنے والی کمیٹیوں سے تعاون نہیں کریں گے وہ اسکول تو ہیں عدالت کے مرتکب ہوں گے۔ لہٰذا تمام اسکولز اپنا متعلقہ ریکارڈ تیار رکھیں اور کمیٹیوں کے دورہ کے وقت انہیں پیش کریں ، دوسرے مرحلہ میں یہ کمیٹیاں سندھ بھر کے باقی تمام اسکولوں کا طلبہ کو دس فیصد فری شپ کی فرہمی کا آڈٹ کریں گی ، اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گائیڈ لائنز اور طریقہ کار اسکولوں کو ارسال کیا جا چکا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصلے کی روشنی میں فیصد فری شپ دس فیصد فری ہائی کورٹ کے فیصلے
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔