آئی ایم ایف کے پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے، ضمنی گرانٹس کے آڈٹ سمیت مزید مطالبات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
آئی ایم ایف کے پاکستان سے ٹیکس نیٹ بڑھانے، ضمنی گرانٹس کے آڈٹ سمیت مزید مطالبات WhatsAppFacebookTwitter 0 22 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )عالمی مالیاتی ادارہ نے پاکستان کو بجٹ تیاری میں ڈیٹا کے درست استعمال، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ سمیت مزید مطالبات کرد یے ہیں۔پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے آئی ایم ایف کے تکنیکی وفد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بجٹ تیاری میں ڈیٹا کے درست استعمال پر زور دیا، اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف بجٹ سازی پر تکنیکی رپورٹ جنوری میں جاری کرے گا جبکہ آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آنے والی مزید تفصیلات میں آئی ایم ایف نے پاکستان میں ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان کی نشان دہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کرپشن، ٹیکس چوری، حقیقی آمدن چھپانے کا کلچر اور پیچیدہ قوانین کم ٹیکس وصولی کی بڑی وجوہات ہیں۔ آئی ایم ایف نے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد کم از کم ڈیڑھ کروڑ کرنیکا مطالبہ کیا ہے، جعلی رسیدوں اور ریفنڈز پر قابو پانے اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ یا مراعات ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
پاکستان کے ٹیکس نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے نے نشان دہی کی ہیکہ پاکستان میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی اصل تعداد سرکاری تخمینوں سیانتہائی کم ہے، ٹیکس چوری، کرپشن اور مخصوص شعبوں کو حاصل مراعات کم ٹیکس وصولی کی بڑی وجوہات ہیں اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان 50لاکھ تک محدود ہیں۔
آئی ایم ایف نے بتایا ہے کہ حالیہ 59 لاکھ ٹیکس گوشواروں میں سے43 فیصد نے صفر آمدن ظاہر کی ہے، یہی وجہ ہے گزشتہ 5سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10فیصد تک محدود رہی، ٹیکس چوری کے لیے حقیقی آمدن چھپائی جا رہی ہے یا غیرحقیقی فائلرز سسٹم میں شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس چوری کے باعث بجٹ خسارہ 3.
قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر رسمی معیشت کے پھیلا نے بھی قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ایف بی آر میں مثر احتساب کا فقدان، بدعنوانی کے راستیکھلے ہیں، کرپشن کے مقدمات میں قانونی کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے اور ریفنڈ نظام میں اندرونی کنٹرول اور شفافیت کمزور ہے۔
آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ مختلف شعبوں کو ٹیکس چھوٹ اور رعایتیں فوری ختم کی جائیں، معیشت کو دستاویزی بنانا انتہائی ضروری ہے، تمام کاروباری شعبوں کی مکمل رجسٹریشن کی جائے، جعلی رسیدوں کی روک تھام اور ڈیٹا کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنا ہوگی اور طویل مدتی ٹیکس پالیسی وضع کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہمارے تین ہزار ارب روپے وفاق نے دینے ہیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا، وزیراعلی خیبرپختونخوا ہمارے تین ہزار ارب روپے وفاق نے دینے ہیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا، وزیراعلی خیبرپختونخوا نجم سیٹھی آپ کے بیانات مکمل طور پر غلط ہیں، محسن نقوی کا سخت ردعمل،سابق چیئر مین اور موجودہ چیئر مین آمنے سامنے سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز، سری لنکاکا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ اسٹارک کی تباہ کن بولنگ اور ہیڈ کی دھواں دھار سنچری، ایشز کا پہلا ٹیسٹ 2 روز میں ہی ختم بنوں: سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن، مزید 8 دہشتگرد ہلاک دہلی اور کابل کا تجارت بڑھانے کیلئے ایئر کارگو سروسز شروع کرنے کا منصوبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ضمنی گرانٹس کے آڈٹ ٹیکس نیٹ بڑھانے آئی ایم ایف کے
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔