اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اپوزیشن کے سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی نے ملاقات کی، جس میں سیاسی ماحول، باہمی روابط اور مذاکرات کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ملاقات میں سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس، سینیٹر فیصل جاوید، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، بیرسٹر گوہر علی خان، اقبال آفریدی، عاطف خان، ڈاکٹر امجد علی خان، سردار لطیف کھوسہ اور محمد جمال احسن خان شریک تھے۔

مزید پڑھیں: اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپوزیشن کو مذاکرات کی ایک بار پھر پیشکش کردی

اسپیکر ایاز صادق نے اپوزیشن وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سیاست سے بڑھ کر اراکین کے درمیان بھائی چارے اور رواداری کا رشتہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست ہمیشہ نہیں رہتی لیکن اراکینِ پارلیمنٹ کا احترام اور تعلق زندگی بھر قائم رہنا چاہیے۔

اسپیکر نے بتایا کہ وہ 2014 سے اپوزیشن اراکین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں، اور ہمیشہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل صرف بات چیت اور سیاسی مکالمے میں ہے۔

مزید پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

ملاقات کے دوران بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہلِخانہ کی ملاقات کی اجازت دینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اپوزیشن وفد نے اسپیکر کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور سہولتکاری کے کردار کو سراہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپوزیشن کے سینیٹرز سردار ایاز صادق سیاسی مذاکرات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن کے سینیٹرز سردار ایاز صادق سیاسی مذاکرات سردار ایاز صادق قومی اسمبلی

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال