نیٹ فلکس کا وارنر برادرز ڈسکوری کو 83 ارب ڈالر میں خریدنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسٹریمنگ کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی نیٹ فلکس نے فلم اور ٹی وی کے بڑے اسٹوڈیو وارنر برادرز ڈسکوری کو تقریباً 83 ارب ڈالر میں خریدنے پر اتفاق کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلموں کے ساتھ اب گیمز بھی، نیٹ فلکس پر نیا فیچر متعارف
دونوں امریکی کمپنیوں نے یہ اعلان جمعے کے روز کیا۔ یہ معاہدہ نیٹ فلکس کو وارنر برادرز کے وسیع فلمی ذخیرے کے ساتھ ساتھ معروف اسٹریمنگ سروس ایچ بی او میکس تک رسائی فراہم کرے گا۔ یہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں سنہ 2019 میں ڈزنی کی 71 ارب ڈالر میں فاکس کی خریداری کے بعد سب سے بڑا انضمام ہے۔
معاہدے کی مالی تفصیلاتمعاہدے کے تحت وارنر برادرز ڈسکوری کی قدر 27.
مزید پڑھیے: نیٹ فلکس سیریز میں ’سطحی‘ کام کرنے پر میگھن مارکل پر تنقید
وارنر برادرز ڈسکوری کے شیئرز جمعرات کو نیس ڈیک پر 24.54 ڈالر پر بند ہوئے۔
وارنر برادرز کی فلمی وراثتوارنر برادرز نے کئی دہائیوں میں مشہور کلاسک فلمیں جیسے کاسا بلانکا اور سیٹیزن کین پروڈیوس کیں جبکہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر کامیاب سیریز اور فلمیں جیسے گیمز آف تھرونز اور ہیری پوٹر بھی شامل ہیں۔
نیٹ فلکس کی جانب سے ردعملنیٹ فلکس کے شریک سی ای او ٹیڈ سارینڈوس نے کہا کہ ہم مل کر دنیا بھر کے ناظرین کو وہ سب کچھ دے سکیں گے جو وہ پسند کرتے ہیں اور کہانی سنانے کے اگلے 100 سال کی نئی سمت طے کریں گے۔
وارنر برادرز ڈسکوری کا بیانکمپنی کے صدر اور سی ای او ڈےویڈ زیسلاو نے کہا کہ آج کا اعلان دنیا کی 20 بہترین کہانی سنانے والی کمپنیوں کو ایک جگہ لے آتا ہے۔
معاہدہ کب مکمل ہوگا؟دونوں کمپنیوں کے بورڈز نے اس ٹرانزیکشن کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ معاہدہ آئندہ 12 سے 18 ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیٹ فلکس وارنر برادرز وارنر برادرز کی خریداری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیٹ فلکس وارنر برادرز وارنر برادرز کی خریداری وارنر برادرز ڈسکوری نیٹ فلکس ارب ڈالر
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔