اڈیالہ جیل، نواحی علاقہ ریڈزون قرار، سیکورٹی مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
حفاظت مزید مستحکم بنانے کیلئے جیل کے نواحی علاقوں کے حدود کا حتمی تعین آج کرلیا جائیگا
داخلی اور خارجی راستوں پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ماہر عملے کو متعین کیا جائیگا
قیدیوں کی حفاظت کیلئے اڈیالہ جیل اور نواحی علاقہ ریڈزون قرار دیدیا گیا جبکہ اس کی حفاظت مزید مستحکم بنانے کے لیے جیل کے نواحی علاقوں کے حدود کا حتمی تعین آج کرلیا جائے گا۔اڈیالہ جیل اور نواحی علاقہ ریڈزون کے اندر اور داخلی راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہر عملے کو بھاری تعداد میں متعین کیا جائے گا۔ اڈیالہ جیل میں موجود تمام ساڑھے 7 ہزار سے زائد قیدیوں کی سلامتی کے بارے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزراء اعظم نذیر اور عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر کسی نے جیل توڑنے کی کوشش کا سوچا بھی تو ریاست کی جانب سے بھرپور ردعمل آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔