خیبر پی کے اور شمالی علاقہ جات کے ذرائع مو اصلات کی بہتری کیلئے اہم فیصلے کر لئے: علیم خان
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی این ایچ اے کے اجلاس میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات کے ذرائع مواصلات کی بہتری کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں شاہراہ قراقرم کے متبادل موٹروے کی طرز پر شاہراہ مانسہرہ، ناران، جھالکھنڈ، چلاس کے راستے چین کے بارڈر تک چار رویہ نئی شاہراہ این15 کی تعمیر کے منصوبے پر جامع غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ این 15 کا منصوبہ تجارتی، سیاحتی اور دفاعی اعتبار سے اپنی نوعیت کا منفرد اور انقلابی اقدام ہوگا جبکہ یہ شاہراہ قراقرم ہائی وے کے مقابلے میں چین کی سرحد تک فاصلے میں واضح کمی لائے گی اور یہ شاہراہ اس قدر کشادہ اور معیاری ہوگی کہ اس پر حد رفتار 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی جا سکے گی۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ یہ منصوبہ وسیع تر قومی مفاد کے تحت عالمی معیار کے مطابق تشکیل دیا جائے جس کے شمالی علاقہ جات اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے ذرائع مواصلات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ این 15 کا یہ منصوبہ شمالی علاقہ جات کے عوام کے حالات میں بہترین تبدیلی لائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شمالی علاقہ جات عبدالعلیم خان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔