ڈی پی ورلڈ 20کے دستخطی بیلٹس نے کھلاڑیوں میں نئی دوڑ چھیڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی(اسپورٹس ڈیسک )ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی20 سیزن 4 میں چار نمایاں بیلٹسس بہترین بیٹر ( ، سفید)، بہترین بالر)، سرخ (موسٹ ویلیوایبل پلیئر اور (نیلی )بہترین اماراتی کھلاڑی کی دوڑ باضابطہ طور پر شروع ہو گئی ہے۔ چھ ٹیموں کے کھلاڑی ان باوقار اعزازات کے حصول کے لیے بھرپور مقابلے میں مصروف ہیں، جس سے ہر میچ کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایونٹ کے ابتدائی مراحل میں ہی شائقین سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جن میں لیگ کی تاریخ کا پہلا سپر اوور بھی شامل ہے۔گلف جائنٹس کے اوپنر پاتھم نسانکا تین اننگز میں 204 رنز اور مسلسل تین نصف سنچریوں کی بدولت سبز بیلٹ پر مضبوطی سے براجمان ہیں۔ وہ 281 پوائنٹس کے ساتھ سرخ بیلٹ کی دوڑ میں بھی سب سے آگے ہیں، جو ٹورنامنٹ میں ان کی شاندار فارم کا ثبوت ہے۔افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی تین میچوں میں 9 وکٹوں کے ساتھ سفید بیلٹ کی دوڑ میں سرفہرست ہیں، جبکہ ڈیزرٹ وائپرز کے خزیمہ تنویر 154 پوائنٹس (50 رنز اور 6 وکٹیں) کے ساتھ نیلی بیلٹ کی قیادت کر رہے ہیں۔گزشتہ تین سیزنز میں یہ بیلٹس لیگ کی پہچان بن چکے ہیں جو ہر ایڈیشن کے بہترین کھلاڑیوں کو اعزاز اور 15 ہزار امریکی ڈالر انعام کے ساتھ نوازتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ کے چیمپئن (بلیک بیلٹ) کے لیے 7 لاکھ امریکی ڈالر اور رنرز اپ کے لیے 3 لاکھ امریکی ڈالر مختص ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔