مانسہرہ ؛ سیاحوں کی کوسٹر کھائی میں جاگری، 20 افراد شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک : مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ میں شوگراں سے واپس واہ کینٹ جانے والے سیاحوں کی کوسٹر کھائی میں گر گئی ۔
تھانہ صدر پولیس کے مطابق واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی فیملی بالاکوٹ شوگران سے واپس واہ کینٹ جاری تھی کہ سیاحوں سے بھری کوسٹر جابہ کے قریب موڑ کاٹتے ہوئے پہاڑی سے نیچے کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کوسٹر میں سوار تمام سیاح شدید زخمی ہوگئے۔
ایشین یوتھ چیمپئن شپ میں میڈل جیتنے والے جوجٹسو کھلاڑیوں کا ائیرپورٹ پر شاندار استقبال
ریکسیو حکام کے مطابق 21 زخمیوں کو مانسہرہ کے کنگ عبداللہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک زخمی دم توڑ گیا ، زخمیوں میں سے بیشتر کی حالات تشویشناک تھی،جن میں چار خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔
ریکسیو حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمی سیاحوں کا تعلق واہ کینٹ سے ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: واہ کینٹ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔