کراچی میں تیز رفتار ڈمپر ڈرائیور نے راہ گیروں کو کچل دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
شہر میں دنداناتے ہوئے تیز رفتار ڈمپر نے تین افراد کو روند دیا جن میں سے ایک شہری جاں بحق جبکہ دو شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ٹاور کے علاقے میں قائم ایدھی سینٹر کے سامنے تیز رفتار ڈمپر نے راہ گیروں اور موٹر سائیکل سوار کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ ایدھی کے رضا کار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے جس میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
حادثے کے بعد مشتعل افراد نے پتھراؤ کر کے ڈمپر کے شیشے توڑ دیئے۔ ایدھی کے رضا کاروں نے متوفی کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کر دی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت 25 سالہ باسط علی کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی ہونے والے 55 سالہ شفیق ، 28 سالہ جنید اور ایدھی کے رضا کار روشن کے ناموں سے ہوئی جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
ایس ایچ او کھارادر پون کمار نے بتایا کہ حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو گرفتار کرلیا جبکہ حادثے میں موٹر سائیکل سوار اور ایدھی سینٹر کے سامنے کھڑے ہوئے افراد زد میں آئے ہیں جس میں ایک نوجوان جو کہ راہگیر تھا وہ جاں بحق ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا ہے اور ڈمپر کو تھانے منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس جائے وقوعہ اور اسپتال میں زیر علاج زخمیوں سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔