جنوبی افریقا :مسافر بس کھائی میں جا گری، 42 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پریٹوریا: جنوبی افریقا کے صوبہ لیمپوپو میں ایک خوفناک ٹریفک حادثے نے درجنوں خاندانوں کو سوگوار کردیا، حادثہ ماکھاڈو کے قریب N1 ہائی وے پر پیش آیا جب تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک مسافر بس اچانک موڑ کاٹتے ہوئے توازن کھو بیٹھی اور سیکڑوں فٹ نیچے کھائی میں جا گری۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق بس جنوبی افریقا کے شہر گکیبرہا سے روانہ ہوئی تھی اور زمبابوے اور ملاوی جانے والے درجنوں مسافروں کو لے کر جا رہی تھی۔ حادثے کے نتیجے میں 42 افراد ہلاک اور 30 سے زائد شدید زخمی ہوگئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 18 خواتین، 17 مرد اور 7 بچے شامل ہیں، جبکہ جاں بحق ہونے والے ایک بچے کی عمر صرف 10 ماہ بتائی جا رہی ہے۔
امدادی ٹیموں نے رات بھر جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور ملبے میں دبے زخمیوں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کی مدد لی، اب تک 30 زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ افراد اب بھی اس کے اندر دبے ہو سکتے ہیں، اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی ممکنہ وجہ کے طور پر ڈرائیور کی نیند یا شدید تھکن کو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ ریسکیو کارروائی مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
لیمپوپو کے مقامی حکام نے حادثے کو ملک کا ایک بدترین بس حادثہ قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، جبکہ وزارتِ ٹرانسپورٹ نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔