’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ تنازع میں شامل رنویرالہ آبادیہ کی ساتھی خاتون انفلوئنسر کو ریپ کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے۔

سوشل میڈیا انفلوئنسر اپوروا مخیجا کی قریبی دوست ردا تھرنا نے انکشاف کیا ہے کہ اپوروا کو ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ یہ دھمکیاں اس وقت سامنے آئیں جب شو میں اپوروا کے متنازع ریمارکس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔

ردا تھرنا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ’’مجھے کبھی شک نہیں ہوا کہ کچھ لوگ صرف عورت ہونے کی وجہ سے خواتین سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’خواتین محض سانس لینے، جینے، خود سے محبت کرنے اور ترقی کرنے کے جرم میں نشانہ بنتی ہیں۔ ایک عورت اگر وہی مسئلہ اٹھائے جو کوئی اور کرے، تو اس پر زیادہ سخت ردعمل آتا ہے۔‘‘

منگل کے روز بھارتی حکومت کی ہدایات پر یوٹیوب نے ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ کی متنازع قسط کو پلیٹ فارم سے ہٹادیا تھا۔ یہ شو جون 2024 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس کی 18 اقساط نشر ہوچکی تھیں۔

یہ تنازع بیئر بائسیپس کے نام سے مشہور یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کے قابلِ اعتراض کمنٹس کے بعد شروع ہوا تھا۔ رنویر کو بھی اس تنازع میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ممبئی پولیس نے بدھ کے روز اس معاملے میں اپوروا مخیجا سمیت چار افراد کے بیانات قلمبند کیے تھے۔ پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس تنازع کے بعد اپوروا مخیجا کو آئیفا ایوارڈز کے سفیروں کی فہرست سے ہٹادیا گیا، یہ تقریب آئندہ ماہ جے پور، راجستھان میں منعقد ہونی ہے۔

سوشل میڈیا انفلوئنسر اپوروا مخیجا بھی رنویر الہ آبادیہ کے ساتھ ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ کی اس متنازع قسط میں شریک تھیں، جس میں یہ تنازع کھڑا ہوا۔ اپوروا کے ریمارکس نے تنازع کو مزید ہوا دی تھی۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: اپوروا مخیجا سوشل میڈیا ا بادیہ

پڑھیں:

پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم

 

پشاور(نیوزڈیسک) ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دے دیا اور سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کر کے غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کی بھی ہدایت کی۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کی ۔ وکیل درخواست گذار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد شئر ہوتا ہے،ٹک ٹاک لائیو گیم میں غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکات ہوتی ہیں۔

پی ٹی اے کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی اے غیر قانونی مواد کو بلاک کرتی ہے جبکہ غیر اخلاقی مواد کی شکایات کے لئے پورٹل بنائے گئے ہیں۔دو رکنی بنچ پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد ہٹانے اور سوشل میڈیا اتھارٹی کو فعال کرنے کاحکم دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں
  • نور مقدم کیس میں جسٹس باقر کا نوٹ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا
  • ذہنی صحت کا سوشل میڈیا کے استعمال سے کیا تعلق ہے؟
  • انوشکا شرما کی سوشل میڈیا پر دھوم—کیا واقعی کرکٹ میں انٹری؟
  • صدر ٹرمپ کا خاتون صحافی کو ’بیوقوف‘ قرار دینے پر نیا تنازع
  • سوشل میڈیا پر بیٹھے بیشتر لوگوں کی سوچ گندی ہے، مشی خان
  • پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم
  • شنگھائی ائرپورٹ پر ارونا چل پردیش کی رہائشی خاتون کو روکنے پر بھارت اور چین میں تنازع
  • کراچی: کلفٹن سے ملنے والی خاتون کی تشدد زدہ لاش کی شناخت ہوگئی
  • سوشل میڈیا انفلوئنسر اذلان شاہ کا دوسری شادی کرنے کا اعلان