پہلگام واقعہ؛ پاکستانی عوام کا سوشل میڈیا پر بھارتی میڈیا کو بھرپور جواب
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
مقبوضہ کشمیر میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام نے بھارتی میڈیا کو بھرپور جواب دے دیا۔
ذرائع کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈے پر پاکستانی عوام ترکی بہ ترکی جواب دے رہے ہیں،جس پر خود بھارتی میڈیا بھی پاکستانی عوام کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا پر منہ توڑ جواب دیے جانے کا اعتراف کررہا ہے۔
بھارتی میڈیا نے پاکستانی عوام کے بھرپور جواب کو حسب روایت ڈیجیٹل وار فیئر قرار دیدیا۔ بھارتی چینل انڈیا ٹو ڈے کے مطابق پاکستان کا سوشل میڈیا اسپیس کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ چینل نے اعتراف کیا کہ پاکستانی عوام ڈیجیٹل میڈیا پر پہلگام حملے کے بعد حاوی نظر آئے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق پاکستان کے مختلف صارفین نے مشترکہ طور پر بھارتی حکومت اور بھارتی فوج کے خلاف پوسٹس شیئر کیں۔ سوشل میڈیا پوسٹوں میں پہلگام حملے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دینے کی کوششیں شامل تھیں اور اس دوران مختلف ہیش ٹیگ جیسے #IndianFalseFlag، #ModiExposed، #PahalgamDramaExposed نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔
چینل نے پاکستانی صارفین کے ردعمل کو مختلف رنگ دیتے ہوئے کہا کہ مہم پاکستانی عوام کی شدت اور بھارت جذبات کو ظاہر کرتی ہے۔ ان ہیش ٹیگز کا مقصد پہلگام حملے کو فالس فلیگ آپریشن بنا کر بھارتی حکومت اور میڈیا کو بدنام کرنا تھا۔ ایک ویڈیو میں وزیر اعظم مودی کو پاکستانی پولیس کے ہاتھوں گرفتار دکھایا گیا۔
انڈیا ٹو ڈے نے اعتراف کیا کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ مہم اتنی طاقتور تھی کہ اس میں 45,000 سے زیادہ پوسٹوں نے مودی کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح بھارتی فوج اور میڈیا بھی پاکستانی عوام کی مہم کے نشانے پر تھے۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے مربوط حکمت عملی کے تحت پیغام اور ہیش ٹیگ کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ #indiaemtythreats، #حافظ ہمارا محافظ، # pakistanstikesback بھی سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے۔
دریں اثنا دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر بھارتی پروپیگنڈے کیخلاف پاکستانی عوام نے متحد ہو کر جھوٹ کا مقابلہ کیا۔ پاکستانی عوام نے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو شکست دیدی۔
ماہرین نے کہا کہ انڈیا ٹو ڈے کا اعتراف پاکستانی عوام کا پاکستان کی سالمیت پر متحد ہونے پر مہر ثبت کرتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دفتر خارجہ کی پہلگام واقعہ پر واضح مذمت پر بھی بھارت نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا۔ پاکستانی عوام نے اس منفی پروپیگنڈا مہم کا مؤثر اور منہ توڑ جواب دے کر بھارتی میڈیا کوبے اثر کردیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان فالس فلیگ آپریشن پاکستانی عوام نے بھارتی میڈیا سوشل میڈیا میڈیا پر میڈیا کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔