لاہور(نوائے وقت رپورٹ) ورلڈ بنک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ز پر مشتمل وفد نے قومی اہمیت کے حامل تربیلا ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا‘ جہاں وفد نے مین ڈیم، تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ، اور زیر تعمیر تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔ تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کے دورے کے موقع پر وفد نے ان لٹ(Inlet)، ٹنل اور پاور ہاؤس پر تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ) بھی دورے میں وفد کے ہمراہ تھے۔ممبر (فنانس)، ممبر (پاور)، جنرل منیجر (کوآرڈی نیشن اینڈ مانیٹرنگ)واٹر، جنرل منیجر تربیلا ڈیم پراجیکٹ، تربیلا چوتھا توسیعی منصوبے کے چیف انجینئر/ پراجیکٹ ڈائریکٹراور چیف انجینئر (او اینڈ ایم) اور چیف انجینئر‘ پراجیکٹ ڈائریکٹر تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ کے علاوہ کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تربیلا ڈیم، تربیلا ہائیڈل پاور سٹیشن اور تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ ورلڈ بنک کی مالی معاونت سے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ زیر تعمیر تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کیلئے بھی ورلڈ بنک390 ملین امریکی ڈالرز فراہم کررہا ہے۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ترقی کے سفر میں ورلڈ بنک اور واپڈا گذشتہ 6 دہائیوں سے شراکت دار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ پانی اور پن بجلی کے منصوبوں کی ترقی کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے ورلڈ بنک کا تعاون حاصل رہے گا۔بریفنگ کے دوران وفد کو بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم 1974میں اپنی تکمیل سے اب تک پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ تربیلا ڈیم سے زرعی مقاصد کیلئے 411ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کیا جا چکا ہے۔ تربیلا ہائیڈل پاور سٹیشن سے نیشنل گرڈ کو مجموعی طور پر 597ارب30کروڑ90 لاکھ یونٹ سستی پن بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: توسیعی منصوبے تربیلا ڈیم ورلڈ بنک

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں کا دورہ
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش