امریکی ایجنسی ایف بی آئی نے شمالی کوریا کے ہیکرز پر دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ سے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے ورچوئل اثاثوں کی چوری کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی اور کرپٹو کرنسی مائننگ ماحول کے لیے کس قدر تباہ کن ہیں؟

اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایف بی آئی نے ہیکنگ کی اس بڑی واردات کو شمالی کوریا کے کسی مخصوص گروپ سے منسوب نہیں کیا لیکن اس نے کہا کہ حملہ آوروں نے ٹریڈر ٹریٹر(Trader Traitor)  نامی چیز کا استعمال کیا جو کہ نقصان دہ کرپٹو کرنسی ایپلی کیشنز کا ایک سیٹ ہے جو متاثرین کو ملازمت کی پیشکش کی آڑ میں میلویئر انسٹال کرنے کے لیے ٹریپ کرتی ہے۔

انسٹال ہونے کے بعد مالویئر ہیکرز کو مالیاتی نظام سے سمجھوتا کرنے اور فنڈز چوری کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ایف بی آئی نے دعویٰ کیا کہ ہیکرز نے چوری شدہ اثاثوں کے کچھ حصوں کو تیزی سے بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں میں تبدیل کرنا شروع کر دیا اور انہیں متعدد بلاک چینز پر ہزاروں پتوں پر منتشر کر دیا۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کیا مستقبل ہے؟

بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے مبینہ مجرموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بعد میں فنڈز کی لانڈرنگ کریں گے اور پتا لگانے سے بچنے کے لیے انہیں فیاٹ کرنسی میں تبدیل کر دیں گے۔

بائی بٹ ایکسچینج (جو 6 کروڑ سے زیادہ صارفین کوخدمات فراہم کرتا ہے) نے کہا ہے کہ یہ خلاف ورزی ڈیجیٹل والٹ کے درمیان معمول کی منتقلی کے دوران ہوئی۔

ایکسچینج کے مطابق ہیکرز نے آف لائن سٹوریج سسٹم سے ٹریڈنگ کے لیے استعمال ہونے والے ہاٹ والٹ میں رقوم کی منتقلی کے عمل سے فائدہ اٹھایا اور تقریباً 401,000 ایتھریم ٹوکن (1.

5 بلین ڈالر) چوری کیے اور انہیں کسی نامعلوم پتے پر منتقل کر دیا۔ بائی بٹ کے مطابق ہیکرز نے سگنیچر انٹرفیس کو دھوکا دیا اور بنیادی اسمارٹ کنٹریکٹ کی منطق کو تبدیل کرتے ہوئے صحیح پتا ظاہر کیا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر کے فیصلوں نے کرپٹو مارکیٹ کو بٹھا دیا، ایک دن میں 500 ارب ڈالر کا نقصان

کمپنی نے کہا کہ اسےرقوم کی واپسی کے لیے ساڑھے 3 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں لیکن اس کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

بائی بٹ نے سائبر سکیوریٹی اور بلاک چین فرانزک ماہرین سے چوری شدہ فنڈز کی بازیابی میں مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی رقم کی بازیابی پر اس میں معاونت کرنے والے کو 10 فیصد انعام دیا جائے گا۔ شمالی کوریا نے اب تک ایف بی آئی کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف بی آئی ڈیڑھ ارب ڈالر کے ورجوئل اثاثے چوری شمالی کوریا کے ہیکرز کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی بڑی چوری

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ئی کرپٹو کرنسی کرپٹو کرنسی بڑی چوری شمالی کوریا کے کرپٹو کرنسی ایف بی ا ئی ارب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع