فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے مجھے عمرہ ادائیگی کی اجازت دی، ہائیکورٹ نے میرا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم دیا،  آج 3 بجے میری فلائٹ تھی، مجھے عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی سینیٹر فیصل جاوید کو پشاور ائیرپورٹ سعودی عرب جانے سے روک لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فیصل جاوید کو سعودی عرب کی فلائٹ سے اپ لوڈ کردیا گیا،  فیصل جاوید عمرہ کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب جارہے تھے۔ فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے مجھے عمرہ ادائیگی کی اجازت دی، ہائیکورٹ نے میرا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم دیا،  آج 3 بجے میری فلائٹ تھی، مجھے عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ائیرپورٹ پر میں نے پشاور ہائیکورٹ کے آرڈر دکھایا، ان کو بھی نہیں مانا، ایف آئی اے ایمیگریشن والوں نے عدالتی احکامات کی توہین کی یے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ  عدالت نے میرا نام سٹ سے نکالنے کا حکم دیا، حکومت نے میرا نام لسٹ سے نہیں نکالا، عدالتی احکامات کے باوجود حکومت نے عمرہ پر جانے کی اجازت نہیں دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہائیکورٹ نے فیصل جاوید مجھے عمرہ کی اجازت

پڑھیں:

ناکہ بندے کے بدلے ناکہ بندی، بحیرہ احمر میں بدلتا توازن

اسلام ٹائمز: خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ اب محض ایک اندرونی بحران یا حتی صنعاء اور ریاض کے درمیان ٹکراو کی حد تک باقی نہیں رہی بلکہ مغربی ایشیا میں جاری جیوپولیٹیکل مقابلہ بازی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اس کا علاقائی طاقت کے دیگر پہلووں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی نظر میں جس قدر تجارت اور انرجی کی شاہرگوں پر علاقائی کھلاڑیوں کی اثرانداز ہونے کی طاقت میں اضافہ ہو گا اسی قدر ہر قسم کے بیرونی حملے یا دباو کی قیمت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لہذا یمن کا اقدام علاقائی ڈیٹرنس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جانے کی علامت ہے۔ ایسا مرحلہ جس میں محض فضائی برتری یا فوجی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گی بلکہ آبی راستوں کی سیکورٹی، جہازرانی اور انرجی کی تجارت پر کنٹرول فیصلہ کن قرار پائے گی۔ تحریر: فاطمہ محمدی
 
یمن گذشتہ تقریباً 12 سال سے سمندری، زمینی اور فضائی محاصرے کا شکار ہے جسے سعودی عرب کی سربراہی میں نام نہاد عرب اتحاد نے اس پر مسلط کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس بات پر تاکید کر چکے ہیں کہ یہ محاصرہ دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحران کا باعث بن رہا ہے۔ ان بارہ سالوں کے دوران سعودی عرب نے فضائی برتری کی بدولت یمن کی بندرگاہوں پر بھی کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور ہر قسم کی غذائی اشیاء اور ایندھن کی ترسیل روک رکھی ہے۔ اس کا مقصد یمن کی اقتصادی اور فوجی طاقت کمزور کرنا ہے اور اس پر اپنے ناجائز مطالبات ماننے کے لیے دباو ڈالنا ہے۔ لیکن اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ یہ مساوات تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے سرکاری طور پر اس ظالمانہ محاصرے کو توڑنے کے لیے عملی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
 
اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن اب دفاعی حکمت عملی سے نکل کر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے اثرات بہت وسیع ہوں گے اور صرف یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے دائرے تک محدود نہیں رہیں گے۔ اسی تناظر میں یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" پر مبنی مساوات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے گذشتہ بارہ سال سے یمن کے خلاف محاصرہ کر رکھا ہے اور ہمارے ملک کے ذخائر کی لوٹ مار میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب یہ صورتحال قابل برداشت نہیں ہے اور آج کے بعد سعودی عرب کے خلاف سمندری محاصرہ شروع کر دیا جائے گا۔ یحیی سریع نے خبردار کیا کہ ریاض کی جانب سے تناو میں شدت لانے کی صورت میں یمن بھی فیصلہ کن اور منہ توڑ جواب دے گا۔
 
یکطرفہ ڈیٹرنس کا دور ختم
یمن کی مسلح افواج کے اس بیانیے سے جو چیز سب سے زیادہ واضح ہے وہ ڈیٹرنس پر مبنی اصولوں میں تبدیلی ہے۔ جنگ کے ابتدائی سالوں میں سعودی عرب برتر فوجی اور سمندری پوزیشن کا حامل تھا جس کی بدولت وہ سمجھتا تھا کہ بھاری قیمت چکائے بغیر ہی صرف اقتصادی محاصرے اور فضائی حملوں کے ذریعے جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ لیکن حالیہ چند سالوں کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ صنعاء نے دھیرے دھیرے میزائل طاقت، ڈرون طیاروں اور بحریہ جیسے شعبوں میں ترقی کی ہے اور اب اس نے سعودی عرب کے اندر والے علاقوں سے لے کر بحیرہ احمر تک فوجی اقدامات انجام دینا شروع کر دیے ہیں۔ درحقیقت یمن کی نئی حکمت عملی اس اصول پر استوار ہے کہ اگر یمنی عوام کی معیشت اور زندگی محاصرے کا شکار ہے تو سعودی عرب کی معیشت اور انرجی کی سلامتی بھی محفوظ نہیں رہنی چاہیے۔
 
بحیرہ احمر کی جیوپولیٹیکل اہمیت
بحیرہ احمر محض ایک آبی راستہ ہی نہیں بلکہ عالمی تجارت کہ ایک اہم ترین شاہرگ بھی ہے۔ ایشیا اور یورپ میں انجام پانے والی تجارت کا بڑا حصہ بحیرہ احمر سے گزرتا ہے جس میں عرب ممالک کی انرجی کی مصنوعات اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بھی شامل ہے۔ بحیرہ احمر میں ہر قسم کا خطرہ بلافاصلہ سمندری ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جانے، بحری جہازوں کی انشورنس فیس میں اضافے، اور انرجی کی عالمی تجارت متاثر ہونے کا باعث بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یمن اپنی دھمکیوں پر عملدرآمد شروع کر دیتا ہے تو صرف سعودی عرب کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ بحیرہ احمر کی سلامتی کی تمام مساواتیں ہل کر رہ جائیں گی۔ اسی طرح بحری جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک جائے گی اور درپیش خطرات کے باعث انشورنس فیس میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔
 
اقتصاد، نیا میدان جنگ
اس تبدیلی کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اب میدان جنگ فوجی جغرافیہ سے ہٹ کر معیشت اور اقتصاد کی سمت منتقل ہو رہا ہے۔ جدید جنگوں کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگیں اس وقت ڈیٹرنس کے مرحلے پر پہنچتی ہیں جب مدمقابل محسوس کرتا ہے کہ جنگ کے اخراجات حاصل ہونے والے مفادات سے کہیں زیادہ ہو جائیں گے۔ سعودی عرب گذشتہ بارہ سالوں کے دوران یمن جنگ پر اربوں ڈالر کے اخراجات کر چکا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی کوشش رہی ہے کہ اپنی تیل کی برآمدات، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو محفوظ رکھے۔ لیکن اب اگر یمن کی مسلح افواج سعودی عرب کی تیل کی برآمدات، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیتی ہیں تو یہ ریاض کے لیے قابل برداشت نہیں ہو گا اور وہ اس جنگ کو ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
 
خطے کی نئی مساواتیں
خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی جنگ اب محض ایک اندرونی بحران یا حتی صنعاء اور ریاض کے درمیان ٹکراو کی حد تک باقی نہیں رہی بلکہ مغربی ایشیا میں جاری جیوپولیٹیکل مقابلہ بازی کا حصہ بن چکی ہے۔ اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اس کا علاقائی طاقت کے دیگر پہلووں سے موازنہ کرتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی نظر میں جس قدر تجارت اور انرجی کی شاہرگوں پر علاقائی کھلاڑیوں کی اثرانداز ہونے کی طاقت میں اضافہ ہو گا اسی قدر ہر قسم کے بیرونی حملے یا دباو کی قیمت بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ لہذا یمن کا اقدام علاقائی ڈیٹرنس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جانے کی علامت ہے۔ ایسا مرحلہ جس میں محض فضائی برتری یا فوجی طاقت فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرے گی بلکہ آبی راستوں کی سیکورٹی، جہازرانی اور انرجی کی تجارت پر کنٹرول فیصلہ کن قرار پائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • ناکہ بندے کے بدلے ناکہ بندی، بحیرہ احمر میں بدلتا توازن
  • باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر