عمران خان ذہنی مریض، پاکستان نہیں تو کچھ نہیں، عطا تارڑ کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی جماعت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان ایک ذہنی مریض ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی یہ سوچ کہ خان نہیں تو کچھ نہیں قابلِ نفرت ہے، کیونکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نہیں تو کچھ نہیں ۔
لاہور میں ن لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف ساڑھے 12 سال سے حکومت میں ہے مگر نہ صوبے میں ترقیاتی کام ہوئے اور نہ ہی ایک بڑا اسپتال بنایا گیا، پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو کھنڈر بنا دیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں فرانزک لیب سمیت کئی بڑے منصوبے مکمل کیے۔
انہوں نے عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید شخص نے 190 ملین پاؤنڈ کی میگا کرپشن کی ہے، یہ شخص اسپتالوں اور فلاحی منصوبوں کے پیسے تک کھا گیا، پشاور میں بزدار پلس پلس کی حکومت کا جلسہ عوام نے مسترد کر دیا ہے، معرکہ حق میں پاک فوج نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، بھارتی فوج آج بھی پاک فوج سے خوفزدہ ہے جب کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دشمن پر خوف طاری ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں بھارت کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت بھی نہ کی، کشمیر کا مقدمہ بھی نہ لڑا، لیکن آج فوج پر الزامات لگاتی ہے، تحریک انصاف کی بہنیں بھارتی میڈیا پر جا کر فوج پر حملہ کرتی ہیں اور پی ٹی آئی کا بیانیہ بیرونی میڈیا میں پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
عطا تارڑ نے 9 مئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کی ویڈیوز میں پی ٹی آئی قیادت کی خواتین بھی موجود تھیں، انہوں نے وہ کام کیا جو دشمن بھی نہ کرسکا، انہوں نے PTI کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر الزام لگایا کہ یہ ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور ملکی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔