منگلا ڈیم - فوٹو: فائل

منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی جبکہ تربیلا ڈیم کا 36 گھنٹے میں ڈیڈ لیول تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آبی ذخائر کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان واٹر اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (واپڈا) کا کہنا ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1050 فٹ پر آگئی، تاہم اسکے بعد اخراج بند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول سے صرف 3 فٹ اونچا رہ گیا ہے، تربیلا ڈیم 36 گھنٹے میں ڈیڈ لیول تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ترجمان واپڈا کا کہنا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1402 فٹ تک گر گئی، تربیلا میں پانی کا ذخیرہ 15 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

منگلا ڈیم کے حوالے سے ترجمان واپڈا نے کہا کہ منگلا میں پانی کا ذخیرہ 72 ہزار ایکڑ فٹ ہے جبکہ چشمہ میں پانی کا ذخیرہ 15 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ میں پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک لاکھ 2 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ 

تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 22 ہزار 200 جبکہ اخراج 20 ہزار کیوسک ہے جبکہ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 19 ہزار 900، اخراج 28 ہزار کیوسک ہے۔ 

ترجمان کے مطابق چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 38 ہزار 400 جبکہ اخراج 27 ہزار کیوسک ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ دریائے چناب میں پانی کی آمد 10 ہزار 800، اخراج 6 ہزار 100 کیوسک ہے۔ 

واپڈا ترجمان اک کہنا ہے کہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 14 ہزار 300، اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میں پانی کی ا مد ترجمان واپڈا پانی کی سطح میں پانی کا تربیلا ڈیم منگلا ڈیم کیوسک ہے ڈیم میں

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا