عید کے دن موسم کیسا رہنے والا ہے؟ چیف میٹرولوجسٹ نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
عید کے دوران ملک بھر میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے جب کہ بڑے شہروں میں درجہ حرارت میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ محمد افضال نے کہا کہ ملک کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 2 سے 3 ڈگری زیادہ رہ سکتا ہے، آئندہ مہینوں میں بھی ملک بھر میں دن کے وقت درجۂ حرارت زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں بارشیں معمول سے 63 فیصد کم ہوئی ہیں، پنجاب اور کے پی میں معمول سے 41 فیصد کم بارشیں ہوئیں، آگے بھی ہم بارشیں بہت کم دیکھ رہے ہیں۔سعودی عرب کے شہر ابھا میں موسلا دھار بارش ، ژالہ باری سے پہاڑی علاقے نے سفید چادر اوڑھ لی
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے خشک سالی سے متعلق ایک الرٹ بھی جاری کیا ہے، فصلوں کے لیے پانی کم ہو گا جو زراعت کو متاثر کرے گا، جنگلی حیات پر بھی منفی اثرات ہوں گے، پانی کی کمی سے بیماریاں بھی متوقع ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ درجۂ حرارت کے بڑھنے سے گلیشئرز پگھلیں گے، تربیلا اور منگلا ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی کی شدید قلت ہے۔مزید کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی 150 فٹ تک نیچے چلا گیا ہے، بارشیں نہ ہونے پر جڑواں شہروں میں 150 فٹ تک بور بھی خشک ہونے کا خطرہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک