گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک نئے تحقیقی مقالے نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سنہ 2030 کے اوائل تک انسانی سطح کی ذہانت حاصل کرلے گی جو انسانیت کو مستقل طور پر تباہ بھی کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح  فریب دے سکتی ہے؟

تحقیی مقالے میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جسے آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس (اے جی آئی) کہتے ہیں انسانیت کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی شین لیگ نے یہ نہیں بتایا کہ اے جی آئی کس طرح بنی نوع انسان کے معدوم ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے ان احتیاطی تدابیر کی نشاندہی کی ہے جو گوگل اور دیگر اے آئی کمپنیوں کو اے جی آئی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اختیار کرنی چاہییں۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت میں نیا انقلاب: مکمل زندگی کی ساتھی روبوٹک گرل آریا

یہ مطالعہ جدید اے آئی کے خطرات کو 4 بڑے زمروں میں تقسیم کرتا ہے جن میں اے آئی کا غلط استعمال، غلط ترتیب، غلطیاں اور ساختی خطرات شامل ہیں۔ یہ تحقیق خطرے کو کم کرنے کی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو غلط استعمال کی روک تھام کے ارد گرد مرکوز ہے جہاں لوگ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے  اے آئی کا استعمال کر سکتے ہیں۔

فروری میں ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمس ہاسابیس نے بتایا تھا کہ اے جی آئی جو کہ انسانوں جتنی یا اس سے بھی زیادہ ہوشیار ہے، اگلے 5 یا 10 سالوں میں ابھرنا شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کو اے جی آئی کی ترقی کے عمل کی نگرانی کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: ‘مصنوعی ذہانت سے خوفناک غربت پیدا ہو سکتی ہے’

“انہوں نے کہا کہ ایک ایسی بین الاقوامی تحقیق ہونی چاہیے جس میں اے جی آئی کی ترقی کی حدیں طے کی جائیں تاکہ اسے محفوظ تر بنایا جاسکے اور کسی ممکنہ نقصان سے بچا جاسکے۔

اے جی آئی کیا ہے؟

اے جی آئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی آگے کی شکل ہے۔ یہ ایک ایسی مشین ہو گی جس میں بالکل انسانوں کی مانند علم کو سمجھنے، سیکھنے اور متنوع ڈومینز میں لاگو کرنے کی صلاحیت ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس اے آئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اور انسانیت کو خطرہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس اے ا ئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اور انسانیت کو خطرہ مصنوعی ذہانت اے جی ا ئی سکتی ہے اے ا ئی کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق

سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔

(جاری ہے)

جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے