شعیب اختر کا پی ایس ایل میں ’پنڈی ایکسپریس‘ کے نام سے نئی فرنچائز کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
’راولپنڈی ایکسپریس‘ کے نام سے مشہور سابق قومی کرکٹر، دنیا کے تیز ترین بولر شعیب اختر نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں نئی فرنچائز کا مطالبہ کر دیا۔
گزشتہ روز ایک نجی پروگرام کے دوران ایک سوشل میڈیا صارف نے شعیب اختر سے سوال کیا کہ اگر آپ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کھیلتے تو کِس فرنچائز کے لیے کھیلنا پسند کرتے؟
اس سوال کے جواب میں شعیب اختر نے بھرپور اور جوشیلے انداز میں کہا کہ میں کسی فرنچائز کے لیے نہیں کھیلتا بلکہ میں اپنی فرنچائز بناتا، یا تو میں کسی فرنچائز کا مالک ہوتا یا اپنی فرنچائز ’پنڈی ایکسپریس‘ لانچ کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں نئی فرنچائز ’پنڈی ایکسپریس‘ ہونی چاہیے، اس فرنچائز کا کرکٹ کلچر اعلیٰ معیار کے فاسٹ بولرز ڈھونڈنا ہوتا، میں اپنی فرنچائز میں تگڑے قسم کے بولرز کو شامل کرتا جو جارحانہ بولنگ کرتے۔
شعیب اختر نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کو فاسٹ بولرز کے ذریعے نئی پہچان ملتی، راولپنڈی نے تھوڑے عرصے میں بڑا ٹیلنٹ پیدا کیا ہے، مجھے لگتا ہے یہاں کی اپنی ٹیم ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ راولپنڈی سے کئی فاسٹ بولرز قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں موجودہ ٹیم میں محمد وسیم اور حارث رؤف شامل ہیں۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فرنچائز کا پی ایس ایل
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔