وزیر مملکت کی گاڑی پر حملہ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے ضلعی صدر زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
وزیر مملکت برائے مذہبی امور کی گاڑی پر ٹھٹھہ میں احتجاجی مظاہرین نے پتھراؤ کیا تھا
سندھ ترقی پسند پارٹی کا ضلعی صدر سید جلال شاہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام
وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی پر حملہ کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے ضلعی صدر سید جلال شاہ کے گھر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا۔ترجمان ایس ٹی پی کے مطابق سید جلال شاہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس نے ایس ٹی پی کے ضلعی صدر سید جلال شاہ، حیدر شورو، حکیم بروہی اور جاوید جا نوری و دیگر پر وزیر مملکت کی گاڑی پر حملے کا مقدمہ درج کیا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیئل داس کوہستانی کی گاڑی پر ٹھٹھہ میں احتجاجی مظاہرین نے پتھراؤ کیا تھا۔متنازع نہروں کے خلاف قوم پرست جماعتوں کے کارکنان کا احتجاج جاری تھا کہ اس دوران وزیر مملکت کا قافلہ وہاں سے گزرنے کیلیے پہنچا۔مشتعل مظاہرین گاڑی کو دیکھ کر مشتعل ہوئے اور انہوں نے گاڑی پر انڈے ٹماٹر برسائے جبکہ شدید نعرے بازی بھی کی تاہم قافلہ وہاں سے گزر گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔