پہلگام واقعہ، اٹاری بارڈر پر بھارتی میڈیا کی پاکستانی سفارتی عملے سے بدتمیزی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
بھارتی جارحیت اور پہلگام واقعے پر بے بنیاد الزامات کے بعد واہگہ کے راستے بھارتی شہریوں کی واپسی اور پاکستانی شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے کے دوران اٹاری بارڈر پر بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے سے بدتمیزی کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ اٹاری بارڈر پر بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے سے بدتمیزی کی گئی۔ بھارتی جارحیت اور پہلگام واقعے پر بے بنیاد الزامات کے بعد واہگہ کے راستے بھارتی شہریوں کی واپسی اور پاکستانی شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے کے دوران اٹاری بارڈر پر بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے سے بدتمیزی کی گئی، بھارتی فوج اور پولیس کی موجودگی میں انڈین صحافیوں نے پاکستانی عملے سے تکرار کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کی واپسی پر واقعہ پیش آیا، پاکستانی عملہ اٹاری بارڈر پہنچا تو عملے سے پاسپورٹ لے لئے گئے۔ واضح رہے کہ بھارت سے ایک پاکستانی سفارت کار اور عملے کے 7 ارکا ن واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستانی سفارتی عملے سے بدتمیزی شہریوں کی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔